سربیا میں خواتین کی سیاسی قیادت پر عالمی کانفرنس، اقراء خالد کی فعال شرکت

بلغراد ،(نمائندہ خصوصی)مسی ساگاایرن ملز سے کینیڈا کی رکن پارلیمنٹ اقراء خالد نے سربیا کے دارالحکومت بلغراد میں منعقدہ خواتین کی سیاسی قیادت سے متعلق بین الاقوامی اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا بھر میں خواتین کو سیاست، قیادت اور فیصلہ سازی کے عمل میں درپیش رکاوٹوں کے خاتمے کیلئے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔

اقراء خالد نے بتایا کہ گزشتہ تین روز کے دوران انہیں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والی خواتین رہنماؤں اور ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ ملاقاتوں اور تبادلہ خیال کا موقع ملا۔ اجلاس میں خواتین کیخلاف صنفی تعصبات، نقصان دہ سماجی رویوں اور سیاسی میدان میں عدم مساوات جیسے مسائل پر تفصیلی گفتگو کی گئی جبکہ خواتین کی قیادت کو فروغ دینے کیلئےمختلف تجاویز اور عملی اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ مختلف ممالک کی خواتین نمائندوں کے تجربات سننے اور ان کے ساتھ خیالات کا تبادلہ کرنے سے اس بات کا احساس مزید گہرا ہوا ہے کہ سیاسی اور سماجی میدان میں حقیقی مساوات کے حصول کیلئے ابھی بہت کام کرنا باقی ہے۔

اقراء خالد کا کہنا تھا کہ 2026 میں بھی دنیا کے کئی حصوں میں خواتین کو سیاسی عمل میں مؤثر شرکت، قیادت اور فیصلہ سازی کے مواقع حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ترقی کا پیمانہ صرف سیاست میں خواتین کی تعداد نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ آیا ان کی آواز سنی جا رہی ہے، ان کی رائے کا احترام کیا جا رہا ہے اور انہیں بااختیار انداز میں قیادت کرنے کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں یا نہیں۔

رکن پارلیمنٹ اقراء خالد نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ کینیڈا اور عالمی سطح پر خواتین کے حقوق، مساوی نمائندگی اور سیاسی بااختیاری کے فروغ کیلئےاپنی کوششیں جاری رکھیں گی اور ایسے فورمز پر خواتین کی آواز کو مؤثر انداز میں اجاگر کرتی رہیں گی۔