سعودی عرب پر حوثیوں کے بڑے حملے، 73 افراد زخمی، توانائی تنصیبات متاثر

ریاض (رائٹرز، اے پی، الجزیرہ) یمن کے حوثیوں نے سعودی عرب کے جنوبی شہروں پر بڑے پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں، جن کے نتیجے میں 73 افراد زخمی ہوگئے جبکہ متعدد توانائی تنصیبات میں آگ لگنے کے باعث بعض مقامات پر آپریشنز عارضی طور پر روک دیے گئے۔

سعودی حکام کے مطابق حوثیوں نے ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران میں شہری اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ سعودی اتحادی فورس کے ترجمان کے مطابق زخمی ہونیوالوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

سعودی وزارتِ توانائی کے مطابق جنوبی سعودی عرب میں توانائی کی متعدد تنصیبات کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا، جہاں آگ بھڑک اٹھی اور کئی افراد زخمی ہوئے۔ ہنگامی اور فائر فائٹنگ ٹیموں نے متاثرہ مقامات پر پہنچ کر آگ پر قابو پانے کی کارروائیاں شروع کیں، جبکہ حفاظتی اقدامات کے تحت بعض تنصیبات کی سرگرمیاں عارضی طور پر معطل کردی گئیں۔

رپورٹس کے مطابق جازان میں سعودی عرب کی اہم آئل ریفائنری بھی حملوں سے متاثر ہوئی۔ جازان ریفائنری کی یومیہ پیداواری گنجائش 4 لاکھ بیرل ہے، جس کے باعث حملوں نے نہ صرف سعودی عرب بلکہ عالمی توانائی مارکیٹ میں بھی تشویش پیدا کردی ہے۔

حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ گروپ نے سعودی عرب میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور سعودی آرامکو سے متعلق تنصیبات کو ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ حوثیوں کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی یمن میں حالیہ سعودی حملوں کے جواب میں کی گئی۔

سعودی اتحادی فورس نے حوثیوں کے حملوں کو ’’خطرناک اشتعال انگیزی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ شہریوں اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا سخت جواب دیا جائے گا۔ سعودی حکام نے ملک کی خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب یمن میں حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز کے درمیان لڑائی میں ایک بار پھر شدت آچکی ہے۔ حوثیوں اور یمنی حکومت کے درمیان حالیہ جھڑپوں نے 2022 میں قائم ہونے والی نسبتاً طویل جنگ بندی کو شدید خطرے سے دوچار کردیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق حوثیوں نے جولائی میں سعودی جہاز رانی کے خلاف ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا اور بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو بھی نشانہ بنانے کی دھمکیاں دی تھیں۔ موجودہ صورتحال میں باب المندب آبنائے کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے، کیونکہ یہ بحیرۂ احمر اور خلیج عدن کے درمیان اہم بحری راستہ ہے۔

حالیہ حملوں نے عالمی توانائی مارکیٹ کو بھی متاثر کیا ہے۔ سعودی توانائی تنصیبات پر حملوں کی اطلاعات کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور برینٹ خام تیل کی قیمت 98 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی، جبکہ مارکیٹ میں قیمت کے 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔