سڈنی حملے میں ملوث ساجد اکرم کے بھارتی ہونے کا انکشاف

سڈنی(ایجنسیاں)سڈنی کے ساحل پر ہونے والے دہشت گرد حملے میں ملوث ساجد اکرم کے بھارتی ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ 24 سالہ حملہ آور نوید اکرم کے ساتھ کام کرنے والے ایک شخص نے بتایا کہ نوید اکرم کے والد ساجد اکرم کا تعلق بھارت سے ہے جبکہ ان کی والدہ اٹلی سے تعلق رکھتی ہیں۔

ذرائع کے مطابق ساتھی کارکن نے بتایا کہ وہ اس نوعیت کے حملے کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے، تاہم یہ بات زیرِ بحث آتی رہی تھی کہ ساجد اکرم کے پاس اسلحہ رکھنے کا لائسنس موجود تھا۔

دوسری جانب آسٹریلیا میں پیش آنے والے اس دہشت گرد واقعے کے بعد پاکستان کے خلاف اسرائیل، بھارت اور افغانستان سے منسلک ذرائع کی جانب سے گمراہ کن پروپیگنڈا بھی بے نقاب ہو گیا ہے۔ سڈنی حملے کے فوراً بعد اسرائیلی اور بھارتی میڈیا کے ساتھ ساتھ متعدد سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے واقعے کو پاکستان سے جوڑنے کی کوشش کی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ نے سب سے پہلے حملہ آوروں کو پاکستانی قرار دیا، جبکہ بھارت کی خفیہ ایجنسی ’را‘ سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے بھی پاکستان مخالف پروپیگنڈا شروع کیا۔ بعض مغربی میڈیا رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ امریکی انٹیلی جنس نے حملہ آوروں کے پاکستان سے تعلق کی تصدیق کی ہے، تاہم آسٹریلوی حکام کی بریفنگز میں کہیں بھی پاکستان کا ذکر نہیں کیا گیا۔

آسٹریلیا میں موجود پاکستانی حکام نے واضح کیا ہے کہ پاکستانی کمیونٹی کی جانب سے بھی ساجد اکرم یا نوید اکرم کے پاکستانی ہونے سے متعلق کوئی مصدقہ اطلاع موجود نہیں۔ ذرائع نے بھارتی میڈیا کے اس دعوے کو بھی جھوٹ قرار دیا کہ ساجد اکرم ٹورسٹ ویزے پر آسٹریلیا گیا تھا۔

ذرائع کے مطابق ساجد اکرم 1998 میں اسٹوڈنٹ ویزے پر آسٹریلیا پہنچا تھا، جو 2001 میں ایک آسٹریلوی خاتون وارینا سے شادی کے بعد پارٹنر ویزے میں تبدیل ہو گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ دستیاب شواہد اور سرکاری معلومات میں پاکستان سے کسی قسم کا تعلق ثابت نہیں ہوتا۔