لاہور(نمائندہ خصوصی)لاہور میں غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا، تاوان اور جنسی زیادتی کے مقدمے میں متاثرہ غیر ملکی خاتون نے مجسٹریٹ کے سامنے فوجداری ضابطے کی دفعہ 164 کے تحت بیان ریکارڈ کرا دیا، جس میں مرکزی ملزم رضا ڈار سمیت دیگر افراد کے خلاف سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
عدالتی ذرائع کے مطابق متاثرہ خاتون آسٹریڈ گیبرئیل نے اپنے بیان میں کہا کہ ان کی ملاقات رضا ڈار سے سنگاپور میں کرپٹو کرنسی سے متعلق ایک تقریب کے دوران ہوئی تھی۔ خاتون کے مطابق ملزم خود کو وزیرعلی ڈار کا بیٹا ظاہر کرتا تھا، جس کی وجہ سے انہوں نے اس پر اعتماد کیا اور اپنی ساتھی اسٹیفنی کے ساتھ کاروباری تعلق قائم کیا۔
خاتون نے الزام عائد کیا کہ پاکستان پہنچنے پر انہیں اور ان کی ساتھی کو ایک گھر میں لے جایا گیا، جہاں دونوں کو دو روز تک مبینہ طور پر قید رکھا گیا۔ اس دوران ان سے کمپیوٹر اور رقم کے بارے میں پوچھا جاتا رہا اور رقم نہ دینے کی صورت میں قتل اور جسمانی نقصان پہنچانے کی دھمکیاں دی گئیں۔
بیان کے مطابق قید کے دوران خاتون کو مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ انہوں نے مزید الزام لگایا کہ ملزم نے ان کے موبائل فون سے مختلف افراد کو رقم کی فراہمی کیلئے پیغامات بھی بھیجے جبکہ بعد ازاں ان کی ساتھی کی والدہ نے ایک لاکھ امریکی ڈالر کا انتظام کیا۔
متاثرہ خاتون کے مطابق رقم ملنے کے بعد انہیں گاڑی میں ایئرپورٹ لے جایا جا رہا تھا، تاہم راستے میں پیش آنے والے ایک حادثے کے دوران وہ اور ان کی ساتھی گاڑی سے نکل کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئیں اور مدد کیلئےچیخ و پکار کی۔

خاتون نے اپنے بیان میں یہ بھی الزام لگایا کہ ابتدائی طور پر ایک ٹریفک پولیس اہلکار نے انہیں ایئرپورٹ لے جانے کا کہا تاہم انہیں صورتحال مشکوک محسوس ہوئی اور وہ وہاں سے بھی نکل گئیں۔ بعد ازاں ایک دوسری پولیس ٹیم، جس میں خاتون اہلکار بھی شامل تھیں، موقع پر پہنچی تو انہوں نے خود کو محفوظ محسوس کیا۔
عدالتی ذرائع کے مطابق متاثرہ خاتون کے بیان کے بعد تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے اور مقدمے میں نامزد ملزمان کیخلاف قانونی کارروائی جاری ہے۔

