فرانس کی آبنائے ہرمز کھلوانے یا جنگ میں مدد کیلئے بحری بیڑہ بھیجنے کی تردید

پیرس/واشنگٹن/برن (رائٹرز، اے ایف پی، عالمی میڈیا)فرانس نے آبنائے ہرمز کھلوانے یا ایران سے جاری کشیدگی میں مدد کیلئےبحری بیڑہ بھیجنے کی خبروں کی تردید کر دی ہے۔فرانسیسی حکام کے مطابق فرانس کا بحری بیڑہ مشرقی بحیرۂ روم میں ہی تعینات رہے گا اور اسے آبنائے ہرمز بھیجنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

دوسری جانب سوئٹزرلینڈ نے ایران سے متعلق جنگی صورتحال کے تناظر میں امریکی فوجی پروازوں پر پابندی کا اعلان کر دیا ہے۔سوئس حکام کا کہنا ہے کہ ایران جنگ سے براہِ راست منسلک امریکی فوجی پروازوں کو سوئٹزرلینڈ کی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے چین سمیت دنیا بھر کے ممالک سے مدد طلب کر لی ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے متاثر کئی ممالک اسے کھلا رکھنے کے لیے امریکا کے ساتھ مل کر اپنے جنگی بحری جہاز بھیج رہے ہیں۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ چین کے ساتھ ساتھ فرانس، جاپان، جنوبی کوریا، برطانیہ اور دیگر ممالک بھی اپنے جنگی جہاز آبنائے ہرمز بھیجیں گے، جبکہ اس راستے سے تیل حاصل کرنے والے ممالک کو اس کی سیکیورٹی خود یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔