فلوریڈا(غیر ملکی میڈیا، بنگلادیشی سفارتخانہ)امریکا میں لاپتہ ہونے والی بنگلادیشی پی ایچ ڈی طالبہ ناہیدہ سلطانہ برسٹی کی لاش کی باقاعدہ تصدیق کر دی گئی ہے جبکہ میت کو وطن منتقل کرنے کی تیاریاں جاری ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق یونیورسٹی آف ساؤتھ فلوریڈا میں زیرِ تعلیم دو طلبہ، جن میں ایک طالبہ بھی شامل تھی، 16 اپریل کو لاپتہ ہوئے تھے۔جمیل لیمون کی لاش 24 اپریل کو ایک پل کے قریب کچرے کے تھیلے سے ملی، جبکہ 26 اپریل کو ایک آبی گزرگاہ سے ملنے والی لاش کی شناخت ناہیدہ برسٹی کے طور پر کی گئی ہے۔
امریکا میں بنگلادیشی سفارتخانے کے پریس منسٹر غلام مرتضیٰ نے بتایا کہ فلوریڈا پولیس نے شناخت کیلئےناہیدہ برسٹی کے بھائی سے رابطہ کرنے کے بعد لاش کی تصدیق کی۔خاندانی ذرائع کے مطابق اہلِ خانہ نے میت کو بنگلادیش منتقل کرنے کی درخواست کی ہے اور اس سلسلے میں سفارتخانے کے حکام سے رابطہ کر کے منتقلی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اسی واقعے میں جاں بحق ہونے والے طالب علم جمیل لیمون کی میت 4 مئی کو ڈھاکا پہنچے گی۔ حکام کے مطابق ان کی میت اورلینڈو سے 2 مئی کی رات دبئی کے راستے روانہ کی جائیگی اور اماراتی ایئرلائنز کی پرواز کے ذریعے صبح 8 بج کر 40 منٹ پر حضرت شاہ جلال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچے گی۔
دونوں طلبہ 16 اپریل کو لاپتہ ہوئے تھے اور جمیل لیمون کو آخری بار اس رہائشی کمپلیکس میں دیکھا گیا جہاں وہ مرکزی ملزم کے ساتھ رہائش پذیر تھے۔پولیس نے موبائل فون لوکیشن اور گاڑیوں کی نگرانی سے شواہد اکٹھے کیے جس کے بعد جمیل لیمون کی لاش برآمد ہوئی جس پر چاقو کے متعدد زخم تھے اور انہیں باندھا گیا تھا۔
پولیس نے ملزم حشام ابو غربہ کو دونوں طلبہ کے قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے جو جمیل لیمون کا روم میٹ بھی تھا۔ پراسیکیوٹر کے مطابق ملزم نے مبینہ طور پر انسانی لاش کو ٹھکانے لگانے کے طریقوں سے متعلق چیٹ جی پی ٹی سےسوالات بھی کیے تھے۔

