کچھ عرصہ قبل وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے اس بیان سے کہ پاکستان کا موجودہ نظام ناکام ہو چکا ہے اور اس کے تحت ملک کے مسائل حل نہیں کیے جا سکتے، حسبِ روایت بحث کا بازار گرم ہوگیا۔ کسی نے اسے حقیقت پسندانہ تجزیہ قرار دیا، کسی نے حکومت کیخلاف چارج شیٹ سمجھا اور کسی نے اس میں اپنے سیاسی مفادات تلاش کرنا شروع کر دیے۔ موجودہ نظام سے فائدہ اٹھانے والے اس کے دفاع میں نکل آئے، جب کہ اقتدار سے محروم سابق مستفیدین نے اس بیان پر واہ واہ کی۔اس تمام شور میں اگر کسی کی آواز سنائی نہیں دی تو وہ پاکستان کا عام شہری تھا، جس کی زندگی پر اس نظام کی ناکامی کے سب سے گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
چند روز تک بیانات، تجزیوں اور ٹیلی وژن مباحثوں کا تیز و تند سلسلہ جاری رہا اور پھر یہ موضوع بھی دوسرے قومی مسائل کی طرح پس منظر میں چلا گیا۔ لیکن کسی وزیر کے اعتراف یا سیاسی بحث سے قطع نظر اس حقیقت سے انکار مشکل ہے کہ پاکستان کا سیاسی، انتظامی اور معاشرتی نظام شدید مفلوج ہو چکا ہے۔ تاہم زیادہ درست بات یہ ہے کہ یہ نظام سب کیلئےناکام نہیں۔ طاقت، دولت اور رسوخ رکھنے والوں کیلئے یہ آج بھی نہایت مستعد اور مؤثر ہے۔ ان کیلئےقانون حرکت میں آتا ہے، بند دروازے کھلتے ہیں، رکی ہوئی فائلیں چل پڑتی ہیں اور فیصلے بھی جلد ہو جاتے ہیں۔ نظام کی اصل ناکامی اس شہری کیلئے ہے جس کے پاس سفارش، سیاسی تعلق یا مالی طاقت نہیں۔
ملک کی سیاست پر نظر ڈالیں تو اس زوال کی بنیادیں صاف دکھائی دیتی ہیں۔ بیشتر سیاسی جماعتیں جمہوریت کا نام تو لیتی ہیں، لیکن اپنی صفوں میں جمہوری اقدار کو جگہ دینے کیلئے تیار نہیں۔ جماعتی انتخابات عموماً رسمی کارروائی بن کر رہ گئے ہیں۔ قیادت مخصوص خاندانوں، شخصیات یا محدود گروہوں کے گرد گھومتی رہتی ہے۔ پارٹی سربراہ عملاً تاحیات اپنے منصب پر فائز رہتے ہیں اور اختلافِ رائے کو اصلاح کے موقع کے بجائے بغاوت سمجھا جاتا ہے۔ جو جماعتیں اپنے اندر جمہوریت برداشت نہیں کر سکتیں، وہ ملک میں حقیقی جمہوری روایت کیسے قائم کریں گی؟
اقتدار کے حصول کیلئےعوامی اعتماد، کارکردگی اور واضح منشور پر انحصار کرنے کے بجائے طاقتور حلقوں کی خوشنودی اور چور دروازوں کی تلاش ہماری سیاسی تاریخ کا مستقل حصہ رہی ہے۔ سیاسی جماعتوں کی توانائی عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے ایک دوسرے کو کمزور کرنے، حکومتیں گرانے، مقدمات بنانے اور مخالفین کو سیاسی میدان سے باہر رکھنے پر صرف ہوتی ہے۔ جو جماعت حکومت میں ہو، وہ اسی نظام کو جمہوریت قرار دیتی ہے؛ جو اقتدار سے باہر ہو، وہ اسے آمریت، دھاندلی اور ناانصافی کہنے لگتی ہے۔ اقتدار بدلتا ہے، بیانیے بدل جاتے ہیں، مگر طرزِ سیاست نہیں بدلتا۔
انصاف کے شعبے کی حالت بھی مختلف نہیں۔ مقدمات برسوں بلکہ دہائیوں تک عدالتوں میں زیرِ التوا رہتے ہیں۔ عام شہری کیلئےانصاف کا حصول مہنگا، پیچیدہ اور تھکا دینے والا عمل بن چکا ہے۔اسے تاریخ پر تاریخ ملتی ہے، مگر فیصلہ نہیں ملتا۔ کمزور شخص معمولی الزام پر برسوں قید رہ سکتا ہے، جب کہ طاقتور ملزم بہترین قانونی معاونت، اثرورسوخ اور نظام میں موجود راستوں سے فائدہ اٹھا لیتا ہے۔انصاف اگر بروقت، یکساں اور قابلِ رسائی نہ ہو تو وہ انصاف نہیں رہتا، محض ایک آئینی وعدہ بن جاتا ہے۔
تعلیم اور صحت کی صورتِ حال بھی اسی امتیازی نظام کی عکاسی کرتی ہے۔ ایک طرف مہنگے نجی تعلیمی ادارے ہیں اور دوسری طرف وسائل، اساتذہ اور بنیادی سہولتوں سے محروم سرکاری اسکول۔ لاکھوں بچے اسکول سے باہر ہیں، جب کہ بے شمار بچے ایسی تعلیم حاصل کر رہے ہیں جو انہیں جدید دنیا میں باعزت روزگار کے قابل نہیں بناتی۔نصاب اور امتحانات پر بحث تو بہت ہوتی ہے، مگر تحقیق، تنقیدی فکر، فنی تربیت، برداشت اور کردار سازی کو مطلوبہ اہمیت نہیں دی جاتی۔
اسی طرح سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کا ہجوم، ادویات کی قلت، ناکافی عملہ اور ناقص سہولتیں عام ہیں، جب کہ معیاری نجی علاج متوسط طبقے کی پہنچ سے بھی باہر ہوتا جا رہا ہے۔ ایک سنگین بیماری پورے خاندان کی برسوں کی جمع پونجی ختم کر سکتی ہے۔ ایسے معاشرے کو فلاحی ریاست کہنا مشکل ہے جہاں تعلیم اور علاج بنیادی حقوق کے بجائے شہری کی مالی استطاعت سے مشروط ہوں۔
پولیس، بیوروکریسی اور بلدیاتی ادارے بھی اسی بیماری کی مختلف علامات ہیں۔ تھانے سے پٹواری اور تحصیل سے سرکاری دفتر تک، عام آدمی کو اپنے جائز کام کیلئےسفارش، رشوت یا بار بار حاضری کی ضرورت پڑتی ہے۔ مقامی حکومتوں کو نہ انتخابی تسلسل دیا جاتا ہے، نہ مناسب اختیارات اور مالی وسائل، حالاں کہ پانی، صفائی، ٹرانسپورٹ اور مقامی ترقی جیسے روزمرہ مسائل کا حل مضبوط بلدیاتی نظام میں پوشیدہ ہے۔ اختیارات عوام کے قریب منتقل کرنے کے بجائے انہیں وفاقی و صوبائی دارالحکومتوں میں مرتکز رکھا جاتا ہے، تاکہ اقتدار بھی اوپر رہے اور وسائل پر اختیار بھی۔
معاشی نظام میں بوجھ اور مراعات کی تقسیم بھی غیر منصفانہ ہے۔ تنخواہ دار طبقہ اور عام صارف براہِ راست اور بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ برداشت کرتے ہیں، جب کہ طاقتور طبقات مختلف رعایتوں، کمزور نگرانی اور سیاسی اثرورسوخ سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ہر حکومت اصلاحات کا اعلان کرتی ہے، لیکن اکثر اصلاح کا مطلب عوام کے لیے بجلی، گیس، ایندھن اور ٹیکسوں میں اضافہ نکلتا ہے۔ اشرافیہ کی مراعات، غیر ضروری سرکاری اخراجات اور شاہانہ طرزِ حکمرانی کم کرنے کی باری آئے تو سیاسی عزم غائب ہو جاتا ہے۔ یوں قربانی ہمیشہ عوام سے مانگی جاتی ہے اور مراعات ہمیشہ خواص کیلئے محفوظ رہتی ہیں۔
سیاسی اور انتظامی زوال کے ساتھ ہمارا فکری و معاشرتی انحطاط بھی کم تشویش ناک نہیں۔ مذہب کے نام پر برپا کیا گیا تماشا ایک الگ مگر نہایت سنجیدہ بحث کا متقاضی ہے۔ مختلف مذہبی مواقع پر بعض افراد اور گروہوں کی عجیب و غریب حرکات، بے بنیاد رسومات اور اشتعال انگیز تقاریر دین کی حقیقی تعلیمات سے دوری کا اظہار ہیں۔ مذہب، جو علم، اخلاق، عدل، تحمل اور انسان دوستی کا درس دیتا ہے، اسے نمود و نمائش، گروہی مفادات، سیاسی طاقت اور کاروبار کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے۔
تحقیق کرنے، سوال اٹھانے یا کسی غیر مستند بات کی نشان دہی کرنے والے کو فوراً دین مخالف قرار دے کر خاموش کرانے کی کوشش کی جاتی ہے، جب کہ من گھڑت روایات، جذباتی نعروں اور غیر ذمہ دارانہ دعوؤں کو بلا تحقیق قبول کر لیا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا نے اس صورتِ حال کو مزید خطرناک بنا دیا ہے، جہاں شہرت کے خواہش مند افراد مذہبی حساسیت کو استعمال کرکے نفرت، تقسیم اور گمراہی پھیلاتے ہیں۔ مذہب کے نام پر جہالت کی سرپرستی، مذہب کی خدمت نہیں بلکہ اس کی اصل روح کو نقصان پہنچانا ہے۔
ایسے میں نظام کی اصلاح محض نئے صوبے بنانے، چند وزارتیں تبدیل کرنے یا کسی نئے مسیحا اور ’’ونڈر بوائے‘‘ کے انتظار سے ممکن نہیں۔ اس ملک میں کبھی ’’اسلامی نظام‘‘، کبھی ’’روشن خیالی‘‘، کبھی ’’تبدیلی آ نہیں رہی، تبدیلی آ چکی ہے‘‘ اور کبھی کسی غیر معمولی نجات دہندہ کے نام پر تجربات کیے گئے۔ ہر مرتبہ نئے نعروں، نئے چہروں اور نئے وعدوں کے ذریعے عوام کو امید دلائی گئی، مگر طاقت کی تقسیم، فیصلہ سازی کا طریقہ اور حکمرانی کا بنیادی ڈھانچہ تقریباً وہی رہا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ نعرے بدلتے رہے، حکمران بدلتے رہے اور نام نہاد ’’ونڈر بوائز‘‘ آتے جاتے رہے، لیکن عام شہری کی حالت نہ بدل سکی۔
قومیں کسی ایک ’’ونڈر بوائے‘‘، طاقتور شخصیت یا نجات دہندہ کے ذریعے نہیں بلکہ مضبوط، غیر جانب دار اور جواب دہ اداروں کے ذریعے ترقی کرتی ہیں۔ اچھا نظام وہ نہیں جسے چلانے کیلئے ہر چند سال بعد کسی غیر معمولی شخصیت کی ضرورت پڑے؛ اچھا نظام وہ ہے جو ایک معمول کے، دیانت دار اور اہل شخص کے ہاتھ میں بھی قانون اور طے شدہ اصولوں کے مطابق چلتا رہے۔ جو نظام شخصیات کے سہارے کھڑا ہو، وہ ان کے جاتے ہی زمین بوس ہو جاتا ہے، لیکن جو نظام آئین، اداروں اور جواب دہی پر قائم ہو، وہ حکومتوں اور قیادتوں کی تبدیلی کے باوجود قائم رہتا ہے۔
حقیقی اصلاح کیلئےآئین کی بالادستی، شفاف انتخابات، سیاسی جماعتوں میں جمہوریت، آزاد اور تیز رفتار عدالتی نظام، بااختیار مقامی حکومتیں، غیر سیاسی پولیس، پیشہ ورانہ بیوروکریسی اور تعلیم و صحت میں مسلسل سرمایہ کاری ضروری ہے۔ احتساب بھی ایسا ہونا چاہیے جو حکومت اور حزبِ اختلاف، طاقتور اور کمزور، سب پر ایک ہی اصول کے تحت لاگو ہو۔ کسی شخصیت، جماعت یا ادارے کو قانون سے بالاتر رکھ کر نظام کی اصلاح نہیں کی جا سکتی۔
سب سے بڑھ کر اصلاحات کی بحث میں عام شہری کو محض تماشائی نہیں بلکہ بنیادی فریق تسلیم کرنا ہوگا۔ نظام کی کامیابی کا پیمانہ یہ نہیں کہ کتنے سیمینار ہوئے، کتنے منصوبوں کا افتتاح ہوا یا کتنے بلند بانگ دعوے کیے گئے۔ اصل پیمانہ یہ ہے کہ ایک عام پاکستانی کو انصاف کتنی جلدی ملتا ہے، اس کے بچے کو کیسی تعلیم میسر ہے، بیماری میں اسے علاج ملتا ہے یا نہیں، اور سرکاری دفتر میں اس کے ساتھ شہری سمجھ کر سلوک کیا جاتا ہے یا رعایا سمجھ کر۔
پاکستان کو صرف چہروں کی تبدیلی نہیں بلکہ قواعد، ترجیحات اور طرزِ حکمرانی کی تبدیلی درکار ہے۔ جب تک ریاستی ادارے شخصیات کے بجائے قانون کے تابع، حکمران مراعات کے بجائے جواب دہی کے پابند اور سیاست اقتدار کے بجائے عوامی خدمت کا ذریعہ نہیں بنتی، ہر چند سال بعد ایک نیا نعرہ، نیا تجربہ اور نیا ’’ونڈر بوائے‘‘ تو سامنے آتا رہے گا، مگر بے آواز عام آدمی کی زندگی نہیں بدلے گی۔

