اوٹاوا (سی بی سی نیوز) کینیڈا کے تین وفاقی ضمنی انتخابات میں لبرل پارٹی کی کامیابی کے بعد وزیراعظم مارک کارنی کی حکومت نے پارلیمانی اکثریت برقرار رکھی ہے، تاہم کیوبیک کے حلقے شیکوتیمی-لے فیورڈ میں لبرلز کی غیر متوقع طور پر بڑی کامیابی کو انتخابی نتائج کا اہم پہلو قرار دیا جارہا ہے۔
لبرل امیدوار ڈینیئل گوبیل نے شیکوتیمی-لے فیورڈ میں کنزرویٹو پارٹی سے نشست چھین لی۔ گزشتہ سال ہونے والے عام انتخابات میں اس حلقے میں کنزرویٹو امیدوار رچرڈ مارٹل کو 34 فیصد، بلاک کیوبیکوا کے امیدوار کو 31 فیصد اور لبرل امیدوار کو 31 فیصد ووٹ ملے تھے۔
رچرڈ مارٹل کے سینیٹ میں جانے کے بعد ہونے والے ضمنی انتخاب میں کنزرویٹو ووٹ میں نمایاں کمی آئی، جس کا براہِ راست فائدہ لبرلز کو ہوا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق لبرلز کو نشست جیتنے کا امکان تو تھا، تاہم کامیابی کے اتنے بڑے مارجن کی توقع نہیں کی گئی تھی۔ لبرلز نے آخری مرتبہ 2015 میں یہ نشست جیتی تھی اور اس وقت کامیابی کا فرق دو فیصد سے بھی کم تھا۔
کامیابی کے بعد شیکوتیمی میں اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے ڈینیئل گوبیل نے کہا کہ انتخابی مہم کے دوران انہوں نے پورے علاقے کا دورہ کرکے لوگوں سے ان مسائل کے بارے میں بات کی جو ان کیلئےاہم تھے۔ انہوں نے کہا کہ لبرلز کا پیغام عوام تک پہنچا اور اسے پذیرائی ملی۔
دوسری جانب نارتھ وینکوور-کیپیلانو میں لبرل امیدوار بریڈن کیلی کی کامیابی کی بھی سی بی سی نیوز کے ڈسیژن ڈیسک نے پیش گوئی کردی۔ بریڈن کیلی اس سے قبل وزیراعظم مارک کارنی کے دفتر میں کام کرچکے ہیں۔
بیچز-ایسٹ یارک میں لبرل امیدوار تنوییر شاہنواز بھی کامیاب قرار پائے۔ ان کی انتخابی تقریب میں موجود حامیوں نے نتائج سامنے آنے پر خوشی کا اظہار کیا۔ این ڈی پی دوسرے جبکہ کنزرویٹو تیسرے نمبر پر رہے۔
شاہنواز نے کامیابی کے بعد ٹورنٹو میں اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بیچز-ایسٹ یارک اور کینیڈا میں لبرل ہونے کے لیے یہ بہترین وقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حلقے کے عوام کی نمائندگی کرنا ان کے لیے زندگی کا بڑا اعزاز ہوگا اور اختتام پر حامیوں سے کہا: “آئیے کام شروع کرتے ہیں۔”
وزیراعظم مارک کارنی نے ڈینیئل گوبیل اور تنوییر شاہنواز کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ گوبیل دیہی کیوبیک اور ملک بھر کے زرعی و غذائی شعبے کے لیے مضبوط آواز ثابت ہوں گے، جبکہ شاہنواز اپنی کمیونٹی کو جانتے ہیں، اس کے لیے جدوجہد کرتے ہیں اور نتائج فراہم کرتے ہیں۔
سی بی سی کے سیاسی تجزیے کے مطابق شیکوتیمی-لے فیورڈ کا نتیجہ بلاک کیوبیکوا کے لیے بھی دھچکا ہے، کیونکہ بلاک نے ماضی میں 2004 سے 2011 تک یہ نشست اپنے پاس رکھی تھی۔ انتخابی مہم کے دوران حلقے کے ووٹرز میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکا کے ساتھ تجارتی محصولات بھی اہم موضوعات میں شامل رہے۔
ادھر بیچز-ایسٹ یارک میں لبرلز کی جیت کے باوجود این ڈی پی کے ووٹ بینک میں نمایاں بہتری دیکھی گئی۔ این ڈی پی کا ووٹ شیئر 2025 میں تقریباً 6.9 فیصد تھا جو اس ضمنی انتخاب میں 20 فیصد سے تجاوز کرگیا، جسے پارٹی کے لیے حوصلہ افزا قرار دیا جارہا ہے۔
تینوں نشستوں پر کامیابی کے نتیجے میں کارنی حکومت کی اکثریت برقرار رہے گی، جبکہ آئندہ چند ماہ میں مزید چھ وفاقی ضمنی انتخابات متوقع ہیں۔

