ورلڈ ایتھلیٹکس کا خواتین ایتھلیٹس کیلئےلازمی جینڈر ٹیسٹ کرانے کا فیصلہ

موناکو( نمائندہ خصوصی)ورلڈ ایتھلیٹکس نے خواتین کھلاڑیوں کی صنفی شناخت کی تصدیق کیلئے عالمی سطح پر مقابلوں میں شرکت کی خواہشمند ایتھلیٹس کیلئے لازمی “جینڈر ٹیسٹ” کرانے کا نیا قانون نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ قانون 25 ستمبر 2025 سے شروع ہونے والی ورلڈ ایتھلیٹکس چیمپئن شپ سے نافذ العمل ہوگا۔

ورلڈ ایتھلیٹکس کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، اب خواتین کیٹیگری میں شرکت کی خواہشمند ہر ایتھلیٹ کو اپنی جنس کی تصدیق کیلئےSRY جین ٹیسٹ (Sex-determining Region Y Test) کروانا ہوگا۔ یہ ٹیسٹ زندگی میں صرف ایک بار کیا جائیگا اور اس کا نتیجہ ہی کھلاڑی کے اہل یا نااہل ہونے کا تعین کرے گا۔

ان کھلاڑیوں کو جو خواتین کیٹیگری میں مقابلے کی خواہاں ہیں، 1 ستمبر 2025 تک اپنے جینڈر ٹیسٹ کے نتائج جمع کرانا ہوں گے۔ فی کھلاڑی یہ ٹیسٹ 100 امریکی ڈالر میں ورلڈ ایتھلیٹکس کی جانب سے کرایا جائے گا، جبکہ ٹیسٹ کروانے کی ذمہ داری متعلقہ قومی ایتھلیٹکس فیڈریشن پر عائد ہوگی۔

ورلڈ ایتھلیٹکس کے ترجمان کے مطابق یہ اقدام عالمی سطح پر خواتین مقابلوں میں شفافیت، مساوات اور کھلاڑیوں کی صنفی شناخت کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئےکیا جا رہا ہے۔صرف وہی ایتھلیٹس جن کے SRY ٹیسٹ منفی آئیں گے، خواتین کیٹیگری میں شرکت کی اہل سمجھی جائیں گی۔

ورلڈ ایتھلیٹکس کے اس فیصلے کو بعض حلقوں کی جانب سے سراہا جا رہا ہے جبکہ انسانی حقوق سے وابستہ تنظیمیں اور صنفی مساوات کے حامی اس پالیسی پر تنقید بھی کر سکتے ہیں۔ تاہم عالمی چیمپئن شپ سے قبل یہ اقدام خواتین کھیلوں کی سمت میں ایک بڑا اور متنازعہ موڑ تصور کیا جا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں