ٹرمپ، چین اور ایران؟ معمر پنشنر کا حق تو دو!

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کا دورہ کرنے کے بعد واپس امریکہ روانہ ہو گئے ہیں۔ دونوں اطراف سے اس دورے پر اطمینان کا اظہار کیا گیا تاہم خلاف معمول اس بارے میں مشترکہ اعلامیہ سامنے نہیں آیا، البتہ ہر دو ممالک کی طرف سے اپنے اپنے موقف کے حوالے سے مثبت بات کی گئی ہے ایران کے حوالے سے کوئی واضح بات سامنے نہیں آئی۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے تو دعویٰ کر دیا ہے کہ ایران اور امریکہ آبناء ہرمز کھلی رہنے اور ایران کو جوہری ہتھیار نہ رکھنے کے مسئلہ پر متفق ہیں جبکہ چین کی طرف سے اپنے موقف کا پھر اظہا رکر دیا گیا ہے اور تائیوان کے مسئلہ پر امریکہ کودور رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے تاہم امریکہ کے صدر ایک بڑا تجارتی معاہدہ کرنے پر بہت خوش نظر آئے ان کے مطابق چینی صدر نے 200بوئنگ جیٹ خریدنے کا تجارتی معاہدہ کرلیا ہے۔ یوں تجارت میں ایک بڑے بریک تھرو کا ذکر ہے، اس حوالے سے امریکہ اور چین دونوں طرف سے احتیاط کی گئی لیکن تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ایران کا تنازعہ یقینا زیر غور آیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے آبناء ہرمز کی آزادی اور چین کے ایران سے تیل خریدنے کا ذکرکیا ہے۔ چین کی طرف سے اس حوالے سے بھی اپنے موقف کو دہرایا گیا ہے کہ تنازعات بات چیت اور باہمی مذاکرات سے حل ہونا چاہئیں۔ یہ اشارہ ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ باہمی بات چیت کے دوران اس موقف پر بات ضرور ہوئی اور امکانی طور پر ایران۔ امریکہ مذاکرات کا نیا دور جلد شروع ہوگا اگرچہ اس پر خود امریکی صدر نے شک پیدا کر دیا اور ان کی ایک نئی دھمکی سامنے آئی ہے کہ ایران معاہدہ کرلے نہیں تو اسے تباہ کر دیا جائے گا اس کے تمام وہ مقام ہماری نظر میں ہیں، جہاں اسلحہ رکھا گیا ہے۔ یوں تنازعہ تو ہے کہ ایران نے پھر دہرا دیا کہ دھمکی سے ایسا ممکن نہیں اور ایران ہر قسم کے حالات سے نبردآزما ہونے کے لئے تیار ہے اور اس طرح ہم جیسے خوش فہم پھر سے سوچ میں مبتلا ہو گئے ہیں کہ پاکستان بہت متاثر ہے، حالات خراب رہے تو عوامی مشکلات اور مصائب میں بہت اضافہ ہوگا کہ بجٹ کی تیاری کے حوالے سے آئی ایم ایف کا وفد اسلام آباد میں موجود ہے اور اس سے بھلائی کی کوئی توقع عبث ہے خصوصاً سرکاری ملازمین پریشان ہیں کہ وزیرخزانہ تنخواہوں میں کوئی ریلیف دینے کے بارے میں بھی اسی وفد کی منظوری کے منتظر ہیں، میں سوشل میڈیا یا اقتصادی اور معاشی ماہرین کی طرح فلسفہ نہیں جھاڑتا لیکن اتنا جانتا ہوں کہ موجودہ نظام میں جنگ رہے یا بند ہو جائے نقصان تو عوام ہی کا ہوگا اس لئے اللہ سے دعا ہے کہ یہ تنازعہ پُرامن طور پر نمٹ ہی جائے کم از کم پٹرولیم مصنوعات کے نرخ تو تیزی سے نہیں بڑھیں گے۔ ویسے بالادست اور زیردست طبقات کے درمیان فرق میں اضافہ تو ہوتا ہی رہے گا۔

بجٹ اور آئی ایم ایف کے وفد کی آمد کے حوالے سے خیال آیا کہ ملازم طبقے کی آس ہے کہ شدید مہنگائی کے دور میں اسے تھوڑی ریلیف تو مل جائے گی، شاید؟ یہ اپنی جگہ لیکن سب سے زیادہ متاثر طبقہ پنشنرز حضرات کا ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے والے پنشن کے خلاف ہیں اور حکومت نے بھی سرتسلیم خم کرکے سرکاری ملازمین کی درجہ بندی کر دی ہے اب نئے اور پرانے ملازمین کی شرائط میں فرق ہے اور ریٹائرمنٹ کے قریب سرکاری ملازم بہت پریشان ہیں، اس سلسلے میں کیا ہوگا اس کے لئے عیدقربان کا انتظار کرنا ہوگا کہ سنت ابراہیمی کے لئے حلال جانوروں کی قربانی ہو جائے تو پھر عوامی قربانی کا وقت ہے۔

جہاں تک پنشنرز حضرات کا تعلق ہے تو ان کی پریشانی اور دکھ واجب ہے لیکن انہی پنشنروں کا ایک طبقہ وہ بھی ہے جو بلاوجہ ہی پس رہا ہے حالانکہ ان کی پنشن حکومت پر نہ تو بوجھ ہے اور نہ ہی اس کا مسئلہ ہے لیکن اس میں بھی حکومت اڑنگا لگائے بیٹھی ہے۔ ای او بی آئی (بڑھاپے کی پنشن والے ریٹائرڈ ملازم ہیں) یہ اپنے دور ملازمت میں اسی بڑھاپے کے تحفظ کے لئے اپنے خون پسینے کی کمائی میں سے کمیٹی ڈالتے رہے ہیں کہ ریٹائرمنٹ کے بعد بڑھاپے کا سہارا بنے گا اور پنشن ملے گی لیکن ان کی بدقسمتی سے ان کے کئی سو ارب روپے سے بھی اشرافیہ کے نمائندے ہی مستفید ہو رہے ہیں، جو لاکھوں روپے ماہانہ تنخواہ اور مراعات لیتے ہیں لیکن جن کی بچت سے یہ لوگ عیش کرتے ہیں ان کو اضافہ دینے کے لئے تیار نہیں ہیں۔

ان دنوں ای او بی آئی پنشنرز ایسوسی ایشن بہت سرگرم اور سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی آواز بلند کرکے مطالبہ کر رہی ہے کہ پنشن حکومت کی طرف سے مقرر کردہ محنت کش کی کم از کم تنخواہ کے برابر تو کر دی جائے تاکہ قومی خدمات انجام دے کر ریٹائر ہونے والے یہ بوڑھے بزرگ کم از کم ادویات کا خرچ تو پو را کرلیں۔ یہ بات مکمل نہیں ہوگی اگر ایک مرتبہ پھر اس نظام کی تفصیل نہ بتا دی جائے کہ اس سے عام محنت کش کو بھی علم ہو جائے گا کہ یہ خیرات نہیں اور نہ ہی حکومتی ریلیف ہے۔ یہ نظام 1974ء میں ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں قانون بنا کر نافذ کیا گیا جس کے تحت 25یا اس سے زیادہ ملازم رکھنے والے نجی اور نیم سرکاری ادارے اور صنعتیں باقاعدہ رجسٹرڈ ہوں گی۔ رجسٹرڈ اداروں کے ملازمین کے ماہانہ مشاہرے سے ایک مقررہ شرح سے کٹوتی ہوگی۔ ایسی ہی شرح سے آجر کا حصہ ہوگا اور ایک مخصوص شرح سے حکومت اپنا حصہ دے گی، اس جمع شدہ رقوم (کمیٹی) کے تحفظ کے لئے ای او بی آئی کا ادارہ بنایا گیا جو ان رقوم کا امانت دار ہے۔قانون کے مطابق دوران ملازمت کوئی ملازم کسی اعانت کا حق دار نہیں ہوتا، وہ جب یٹائر ہو جائے تو اس کی پنشن شروع ہوتی ہے جو ای او بی آئی ادا کرتا ہے۔ بدقسمتی سے یہاں بھی نوکرشاہی کا قبضہ ہے اور ریٹائر ملازم کو اس کمیٹی میں سے مناسب حصہ نہیں دیا جاتا جبکہ ای او بی آئی کے حکام عیش کرتے ہیں۔ یہ پنشن صرف 1150روپے ہے جو قطعی کم ہے اور اس میں اضافے کا مطالبہ ہے جو جائز ہے کہ یہ حکومتی خزانے سے ادا نہیں ہوتی بلکہ ٹرسٹ (ای او بی آئی) ادا کرتا ہے جو اب کئی سوارب نقد کے علاوہ سینکروں ارب کے اثاثے بھی رکھتا ہے۔ اس میں اضافے سے آئی ایم ایف یا حکومت کا کوئی لینا دینا نہیں۔ اطلاع تو یہ ہے کہ خود حکومت اس کی قرض دار ہے اور اس نے اپنا حصہ نہیں دیا ہوا۔