ٹرمپ نے ایران کے خلاف نئی جنگ سے متعلق کانگریس کو باضابطہ آگاہ کر دیا

واشنگٹن (پولیٹیکو) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف دوبارہ شروع ہونے والی فوجی کارروائی کے حوالے سے کانگریس کو باضابطہ نوٹس ارسال کر دیا ہے، جس کے بعد امریکی انتظامیہ کو کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران میں فوجی کارروائیاں جاری رکھنے کیلئےمزید 60 روز کی قانونی مہلت حاصل ہو گئی ہے۔

10 جولائی کو کانگریس کو بھیجے گئے خط میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ 7 جولائی سے شروع ہونیوالی فوجی کارروائیاں امریکی شہریوں اور امریکا کے مفادات کے تحفظ کیلئے بطور صدر ان کی آئینی ذمہ داری کے مطابق کی جا رہی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان آبنائے ہرمز پر کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جبکہ صدر ٹرمپ نے حالیہ دنوں آبنائے ہرمز پر دوبارہ ناکہ بندی نافذ کرنے اور وہاں سے گزرنے والے جہازوں پر فیس عائد کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

کانگریس کو بھیجے گئے نوٹس میں صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران کے ساتھ دو ماہ قبل ہونیوالی جنگ بندی اب باضابطہ طور پر ختم ہو چکی ہے۔ اپریل میں ہونے والی جنگ بندی کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان وقفے وقفے سے حملے جاری رہے تھے، تاہم ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف تھا کہ مکمل جنگ دوبارہ شروع نہیں ہوئی۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران امریکی افواج نے آبنائے ہرمز میں ایران کی کارروائیوں کے جواب میں 300 سے زائد ایرانی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

اس سے قبل صدر ٹرمپ نے مئی میں کانگریس کو مطلع کیا تھا کہ فروری میں شروع ہونے والی جنگ ختم ہو چکی ہے، جس کے بعد 60 روزہ قانونی مدت بھی ختم تصور کی گئی تھی۔ تاہم اب نئی فوجی کارروائیوں کے آغاز کے بعد کانگریس کو دوبارہ نوٹس جاری کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق کانگریس میں جنگ مخالف ارکان پہلے ہی ایران کیخلاف فوجی کارروائیوں کو محدود کرنے کیلئےقانون سازی کی کوشش کر رہے ہیں اور صدر ٹرمپ کا تازہ نوٹس ان کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔