پاکستان، دہشت گردی کے نشانے پر

پاکستان دہشت گردوں کے نشانہ پر 9/11 سےکئی سال پہلے آ چکا تھا چاہے وہ کراچی میں نرسری کے قریب دو امریکی سفارتکاروں کا قتل ہو یا اسلام آباد میں مصر کے سفارتخانے پرخود کش حملہ۔ صاف نظر آ رہا تھا کہ افغانستان میں آنیوالی تبدیلیوں کے اثرات سے ہم بھی محفوظ نہیں۔ اس بحث میں جائے بغیر کہ پہلے ’مجاہدین‘ اور پھر ’طالبان‘ بنانے کی آخری قیمت بہرحال پاکستانی قوم کو ہی ادا کرنی پڑی اور کراچی اس کا خاص ٹھکانہ ٹھہرا اور آگ اور خون میں نہا گیا۔ کون اور کیوں کا سوال نہیں بلکہ سوال یہ ہے کہ کیاہم اس صورتحال سے آگاہ نہیں تھے اور پھر 9/11ہو گیا۔ ہم اس جنگ سے آج تک نہیں نکل پائے روس بھی چلا گیا اور امریکہ بھی، اب ہم ہیں اور طالبان۔ آج اس بات کو 25 سال ہو گئے ہیں مگر ’امن‘ ہے کہ کہیں لاپتہ ہو گیا ہے۔ برسوں پہلے امریکہ میں ایک پریس بریفنگ کے دوران میں نے انکے ترجمان سے پوچھا ’’9/11کےبعد دہشت گردی کیخلاف جنگ میں اربوں ڈالرز خرچ ہو گئے، کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ دنیا میں دہشت گردی کم ہوئی یا بڑھی ہے۔ اس نے اعتراف کیا کہ ’’بدقسمتی سے بڑھی ہے‘‘ ۔’’جی دہشت گردی میں اضافہ ہوا ہے مگر ہم اس کیخلاف لڑ رہے ہیں‘‘۔ بس صحافی کا اتنا ہی کام ہوتا ہے کہ ’خبر‘ نکال لائے۔

9/11 میں نہ پاکستان ملوث تھا نہ ہی کوئی پاکستانی مگر رمزی یوسف اور ایمل کانسی جیسے واقعات کے باعث اور اسلام آباد میں مصر کے سفارتخانے اورامریکی سفارتکاروں کے قتل کے بعد ہم امریکی ریڈار پر آگئے تھے۔ ہمیں تو خیر سالوں پہلے جب ہم افغانسان میں روس کیخلاف جہاد کر رہے تھے نظر آ رہا تھا کہ ہماری اپنی سرزمین محفوظ نہیں رہے گی مگر 90کی دہائی میں دہشت گردی کے واقعات میں بے انتہا اضافہ ہونے لگا۔ 9/11 کا الزام القاعدہ اوراس کے سربراہ اسامہ بن لادن پر لگایا گیا جو ان دنوں افغانستان میں تھا۔ پاکستان میں جنرل پرویز مشرف کی حکومت تھی اور اگر میں غلط نہیں تو ان دنوں سابق ISI چیف جنرل محمود امریکہ میں ہی تھے۔ پاکستان چونکہ پہلے ہی ریڈار پر تھا تو امریکہ نےجنرل مشرف پر واضح کر دیا’’آپ ہمارے ساتھ ہیں یا ہمارے خلاف‘‘۔ یہ ویسی ہی وارننگ تھی جو 70کی دہائی میں امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علیٰ بھٹو کو دی تھی نیوکلیئر پروگرام بند نہ کرنے کی صورت میں۔ بس ایک کا جواب ’ناں‘ میں آیا اور ایک کا جواب ’ہاں‘ میں۔ البتہ یہ ضرور تھا کہ جنرل مشرف نے امریکی حملے سے پہلے جنرل محمود، مفتی نظام الدین شامزئی جو افغان طالبان کے امیر ملا عمرکے استاد تھے اور مفتی جمیل کو اس پیغام کیساتھ ملا عمر کے پاس بھیجا کہ اسامہ بن لادن کو افغانستان چھوڑنے کا کہہ دیں ورنہ حملہ ہو جائیگا اور امریکہ تیار بیٹھا ہے۔ اب وہاں کیا بات ہوئی اس کا توعلم نہیں لیکن القاعدہ کے رہنما وہیں رہے یہاں تک کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے افغانستان پر حملہ کردیا۔ 80کے بعد ایک نئی کھیپ افغان مہاجرین کی پاکستان آئی اور خود طالبان اور القاعدہ کی مرکزی قیادت بھی یہاں موجود تھی۔ ان میں سے کئی رہنما کراچی اور اسلام آباد یا راولپنڈی سےپکڑے گئے اور آخر کار اسامہ بن لادن کو مبینہ طور پر ایبٹ آباد میں ایک امریکی کمانڈو ایکشن میں ہلاک کر دیا گیا۔

امریکہ کیلئے وہ جنگ وہاں ختم ہو گئی تھی مگر پاکستان کیلئے شاید ابھی ایک ا ور طویل جنگ کی ابتدا تھی۔ یہ جنگ دو ممالک کے درمیان نہیں بلکہ پاکستان کی سیکورٹی فورسز اور طالبان اور ان کی پراکسیزکیخلاف تھی جو کسی نہ کسی شکل میں آج بھی جاری ہے۔ تاہم ان سالوں میں ہماری، فوجی اور سیاسی قیادت دونوں نشانہ بنیں، کئی علماء کرام بھی شہید ہوئے ایک وقت تھا کہ شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان، مالا کنڈ ، سوات جیسے علاقے بھی ان کے قبضے میں رہے یہاں تک کہ بات اسلام آباد تک پہنچ گئی جس کے نتیجے میں لال مسجد جیسے واقعات اور پھر وفاقی دارلحکومت کے 5-Star ہوٹل کو خود کش دھماکے میں اڑانے کی کوشش کی گئی۔

ان برسوں میں افغانستان میں بھی اور پاکستان میں بھی حکومتیں بدلتی رہیں اور طالبان کی حکومت بھی واپس آ گئی۔2013 کے انتخابات میں پاکستان کی سیاسی جماعت عوامی نیشنل پارٹی خاص نشانہ بنی اور اسکے کئی سرکردہ لیڈر مارے گئے۔پی پی پی اور ایم کیو ایم بھی ان کے نشانے پر رہے۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب میاں نواز شریف کی حکومت میں طالبان اور پاکستان کی سیاسی قیادت کے درمیان بات چیت ہوئی۔ پھر 2018میں عمران خان کی حکومت آ گئی مگر اس سے چار سال پہلے پاکستان کی تاریخ کا شاید سب سے درد ناک ، دل و دماغ ہلا دینے والا واقعہ ہوا ،آرمی پبلک اسکول میں دہشت گردوں نے 150سے زیادہ بچوں اور کچھ ٹیچرز کو شہید کر دیا ۔ اس واقعہ نے پورا ملک ہلا کر رکھ دیا اور برسوں بعد پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت سر جوڑ کر بیٹھی اور ایک جامع’ نیشنل ایکشن پلان‘ بنایا گیاملک سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کو ختم کرنے کیلئے۔ آج اس بات کو 12 سال ہوگئے ہیں انتہا پسندی اپنی انتہا کو ہے اور دہشت گردی اب مختلف زاویوں سے ملک پر حملہ آور ہے۔ اس طویل جنگ میں ہمارے ہزاروں جوان، افسران اور عام آدمی بڑی تعداد میں شہید ہوئے۔ گو کہ مجموعی طور پر دیکھیں تو آج کا کراچی 90 اور2000 کے کراچی سے بہت بہتر ہے۔ کم و بیش یہ صورتحال کے پی اور سابقہ فاٹا کے علاقوں کی ہے گو کہ وہاں اب بھی دہشت گردی کے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ مگر بلوچستان کے بارے میں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہاں کے حالات ماضی کے مقابلے میں اور زیادہ خراب ہوئے ہیں اور اس کا ایک درمیانی حل بہرحال نکالنا پڑئیگا ۔ رہ گئی بات پنجاب اور وفاقی دارالحکومت کی تو صورتحال ماسوائے ایک وقت میں فرقہ واریت کے سوا بہت خراب نہیں رہی گو کہ خود کش حملے وہاں بھی ہوئے لیکن باقی تین صوبوں کے مقابلے میں وہاں مجموعی طور پر امن و امان رہا۔

سوال یہ ہے کہ سبق سیکھا یا نہیں سیکھا ۔اہم ترین بات یہ ہے ’ نیشنل ایکشن پلان‘ پر کب اور کس طرح عمل درآمد ہوگا۔ اچھا ہے کہ آج ، اچھے اور برے طالبان کی بحث کا سامنا نہیں، دہشت گردی کی ہر شکل کی مذمت ضروری ہے۔ انتہا پسندی آج بھی کئی طریقوں سے بڑا چیلنج ہے لہٰذا بہتر ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر، حکومت اور اپوزیشن جماعتیں ایک ٹیبل پر بیٹھیں اور کسی نئے اور قابل عمل نیشنل ایکشن پلان پر اتفاق کریں اور فوراً عمل درآمد کا آغاز کردیں۔ ایسے ہی بلوچستان کےمسئلے پر قومی کانفرنس بلائی جائے جس میں سیاسی قیادت کے علاوہ سول سوسائٹی کے لوگوں کو بھی بلایا جائے۔