وژنری شاعر غالب نے یہ باریک نکتہ اٹھایا تھا ’’ جب کہ تجھ بن نہیں کوئی موجود/ پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے‘‘ سیاست نہ اسوقت ہورہی ہے اور نہ اسکی گنجائش موجود ہے تو پھر یہ ہنگامہ کیا اور کیوں ہے؟ سادہ لوح بندہ کیا سمجھے اور کیا سمجھائے؟ ماضی کے شاعر اور مفکرنئی تخلیق، نئے منصوبوں انسانوں اور نظام میں تبدیلی کیلئے کوزہ گری کی اصطلاح استعمال کرتے تھے فارسی شاعر حافظ شیرازی، عمر خیام اور اردو شاعر ن م راشد نے کوزہ گر، ظروف ساز کو اپنی اصطلاحات میں بکثرت استعمال کیا ہے۔ کوزہ گر عرصہ سے بھٹی تپائے، چاک لئے نئے کوزے بنانے کو تیار بیٹھے تھے، یہ سب کچھ پردہ راز میں تھا پھر اسی سال جون کی9یا10تاریخ کو اس سندیافتہ جھوٹے صحافی نے ہوا میں تیر چلا دیا ’’خبردار، ہوشیار ،تیار‘‘ کے نام سے کالم لکھا کہ حکومت سیاست اور معیشت میں ناکام ہے اسلئے جولائی سے زوال شروع ہوجائیگا‘‘۔ جھوٹے صحافی نے احتیاطاََ اور خوف فساد ِ خلق کے تحت یہ درج کرنا بھی مناسب خیال کیا کہ یہ خبر نہیں،تجزیہ ہے۔مگر اس صحافی کی کوئی احتیاط کام نہ آئی اپنے اور پرائے سب پنجے جھاڑ کر پیچھے پڑ گئے ۔
یوٹیوبر بہادر فراری تو ویسے ہی تعصب اور نفرت کا اسقدر شکار ہیں کہ ہرروز خان کی رہائی کی افواہیں اڑانے والے جھوٹے انہیں عزیز ہیں اور حقیقت پسند انہیں اسٹیبلشمنٹ کے ایجنٹ اور نونی لفافے لگتے ہیں میرے محسن خفا ہوکر مجھے ریٹائر ہونے کا مشورہ دے گئے اور کہا کہ یہ تو کہتے تھے کہ امریکہ ایران صلح نہیں ہوسکتی ہم نے وہ بھی کروادی ہے یہ مسلسل غلط ثابت ہوئے ہیں یہ کالم بھی غلط ثابت ہوگا۔ ایک عزیز نے کہا کوئی زوال نہیں فوج اورنون تو اب اتنے قریب ہیں کہ یہ اتحاد نصاب کا حصہ بن چکا ہے ایک مہربان نے کہا کہ یہ حقائق سے بے خبر ہے، نام بنانے کیلئے ایسی خبریں اڑاتا ہے۔ یہ جھوٹا صحافی دوستوں اور دشمنوں کے تبصروں پر صبر کے گھونٹ پیتا رہا جولائی دور نہیں تھا اسلئے دیکھنا یہ تھا کہ ہوتا کیا ہے جھوٹا سچا نکلتا ہے یا باخبر، طاقتوروں کا قرب رکھنے والے یا مجھ سے خواہ مخواہ کا عناد رکھنے والے درست ثابت ہوتے ہیں، میں جھوٹا نکلتا تو جھوٹے کی ایک اور مہر لگ جاتی ، مگر افسوس الٹ ہوگیا یہ جھوٹا صحافی اپنے دوستوں اور دشمنوں دونوں سے شرمندہ ہے کہ اسکا جھوٹ سچ نکلا، میری خواہش تویہی تھی کہ میں مزید جھوٹا ثابت ہوں ملامت بھی رحمت ہوتی ہے میں دوستوں اور دشمنوں سے اپنی اس ناکردہ غلطی کی معافی مانگتا ہوں خدا مجھے متکبر لوگوں کی بجائے جھوٹوں میں رکھے میرے لئے یہی توشہ آخرت اور شرف انسان کی ادنیٰ ترین دلیل ہے ۔
غالب بڑے آدمی تھے انہوں نے خدائے پاک سے سوال کیا تھا حافظ اور ن م راشد کوزہ گر کوزیر بحث لاتے رہے مگر اب تو کل یوگ یعنی آخری اور برازمانہ ہے اس میں بالی وڈ کا یہ سوال زیادہ مقبول ہے’’ ہنگامہ ہے کیوں برپا؟ تھوڑی سی جو بات کردی ہے‘‘۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد کنونشن سنٹر میں بم چلایا کہ نظام ناکام ہوچکا ہے اس محفل کے حاضرین میں یہ ناچیز بھی شامل تھا یہ تاجروں کا کوئی عام اجلاس نہ تھا بلکہ ملک بھر سے آئے ہوئے تاجروں کا آج تک کا سب سے بڑا اجتماع تھا جس میں گوادر سے میانوالی اور پختونخوا کے قبائلی علاقے سے لیکر سندھ کے شہر دادو تک کے نمائندہ موجود تھے ، مہمان تاجروں کیلئے ہوٹلوں میں400 کمرے بک کروائے گئے تھے۔ ڈیڑھ دن تک تاجروں کے رہنما ایس ایم تنویر کی سربراہی میں جو گفتگو ہوتی رہی اسکا لبِ لباب یہ تھا کہ ملکی معیشت کو چلاتے توتاجر ہیں مگر حکومتی اور ریاستی فیصلوں میں انکی کوئی نمائندگی نہیں اسی گفتگو کے جواب میں وزیرِ داخلہ نے وہاں یہ کہہ ڈالا کہ تاجرچھپ چھپ کر الیکشن فنڈنگ کرتے ہیں۔ سیاست چلتی ہی تاجروں کے پیسے سے ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ تاجروں کو خود سیاست میں متحرک ہو کراسمبلیوں میں آنا چاہیے تاکہ وہ حکومتی اور ریاستی فیصلہ سازی میں شریک ہوسکیں۔
سابق نگران وفاقی وزیر گوہر اعجاز اسوقت صنعتکاروں اور تاجروں کے طاقتورترین گروپ کا نمایاں ترین نام ہیں۔ آئی پی پیز کیخلاف ساری مہم کو انہوں نے ہی لیڈ کیا تھا۔ امسال انکی سربراہی میں قائم تھنک ٹینک نے متبادل بجٹ بھی پیش کیا تھا۔ پی آئی اے کو خریدنےوالی کنسورشیم میں بھی وہ شامل ہیں۔ وفاقی وزیرِ داخلہ کی تقریر کے موقع پروہ اسٹیج پرموجود تھے مگر انہوں نے کوئی تقریر نہیں کی البتہ انکے بااعتماد ساتھیوں فواد مختار نے زرعی معیشت بہتر بنانے اورایس ایم تنویر نے تاجروں کو حکومتی فیصلوں میں شریک کرنے کے بارے میں تقریر کی۔
اجلاس میں حیران کن موجودگی انڈیپنڈنٹ گروپ کے سربراہ وکلا رہنما احسن بھون کی تھی۔ چودھری احسن بھون، مشہور لیجنڈری پنجابی شاعر افضل احسن رندھاوا کے داماد ہیں اور شروع ہی سے پیپلزپارٹی سے وابستہ رہے ہیں۔ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وہ قریبی دوست ہیں۔ احسن بھون نے تاجروں سے خطاب کرتے ہوئے آئین کی گتھی سلجھانے کی کوشش کی کہ آئین میں صوبوں کے جغرافیے کو تبدیل کرنے کی گنجائش موجود ہے پیپلز پارٹی کے سرکاری موقف کے برعکس انکا خیال تھا چھوٹے صوبے بنانا ضروری ہو گیا ہے۔
سب سے آخری تقریر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی تھی وہ جب تقریب میں آئے تو ان کے ہاتھ میں اسوقت بھی کاغذ تھے اور پھر تقریب میں بیٹھے بیٹھے وہ مسلسل اپنے نوٹس کی کانٹ چھانٹ میں مصروف رہے۔ جب انہوں نے دھماکے دار تقریرکی تو لگتا تھا کہ انہوں نے اپنی تقریر کے اہم نکات پہلے سے تحریر کر رکھے تھے۔ انکی تقریر کا بہت کم حصّہ برجستہ اور فی البدیہہ تھا جبکہ تقریر کا بیشتر حصّہ پیشگی طے شدہ (Pre Meditatedُ) یعنی پہلے سے سوچا سمجھا تھا انہوں نے نظام کے ناکام ہونے، نئے انتظامی یونٹ یا صوبے بنانے اورفیلڈ مارشل اور وزیراعظم کی تعریفیں، جذبات میں آکر نہیں کیں بلکہ ٹھنڈے لہجے اور سوچے سمجھے انداز میں کیں۔ یوں لگتا تھاکہ جیسے انہوں نے مقتدرہ کی پیغام رسانی کی۔
میرا اندازہ ہے کہ چونکہ وزیرداخلہ اور وزیراعظم میں بہت گرم جوش تعلقات ہیں اسلئے وزیر داخلہ نے جو باتیں تاجروں کے کنونشن میں سر عام کیں وہی باتیں وہ وزیر اعظم سے اکیلے میں کر چکے ہونگے اور چونکہ وزیر داخلہ بے حد احتیاط کے قائل ہیں۔ پروٹوکول کو کبھی نہیں توڑتے اسلئے یہ بھی ہوسکتا ہے کہ انہوں نے وزیر اعظم سے انہی باتوں کو سرعام کہنے کی اجازت بھی لے لی ہو۔ اگر اس ناچیز کا اندازہ صحیح ہے تو وزیر داخلہ کی پیش کردہ تجاویزپر شدید تحفظات رکھنے کے باوجود ن لیگ شاید کوئی ردعمل نہ دے اور فی الحال وقت کا انتظار کرنے کو ترجیح دے دوسری طرف پیپلز پارٹی اور اسکی قیادت کیلئے حالیہ سالوں میں یہ کڑا ترین وقت ہے سندھ کو انتظامی یونٹس میں تقسیم پرتو پیپلز پارٹی مصلحت آمیز خاموشی اختیار کرسکتی ہے لیکن نئے صوبے بنانے یا اس سوال پر ریفرنڈم کروانے کے حوالے سے پیپلز پارٹی کو سیاست یا اقتدار میں سے ایک چوائس چننی پڑے گی سندھ میں نئے صوبے بنانے کو پیپلز پارٹی تسلیم کرے تو اسکی سندھی سیاست ختم ہوجائیگی اور اگر نہ کرے تو اقتدار سے ہاتھ دھونے کے علاوہ مشکل وقت کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔
ماضی میں پیپلز پارٹی اور نون لیگ ایک دوسرے کی علانیہ اور خفیہ مدد کوآتی رہی ہیں یہ دونوں جماعتیں آپس میں لڑتی بھی ہیں اور اگر کوئی تیسرا انہیں مارے تو یہ اکھٹی بھی ہوجاتی ہیں بظاہرایسا لگ رہا ہے کہ موجودہ تناظر میں نون اور پیپلز پارٹی اپنی الگ الگ راہ اور شناخت پر قائم رہیں گی۔ ماضی قریب میں تو آپس کی محبتیں اسقدر بڑھ گئی تھیں کہ اسپیکر قومی اسمبلی کی سیٹ کیلئے پیپلز پارٹی پر غور کیا گیا مگر پھر یہ معاملہ طے نہ ہوسکا۔ کشمیر کے الیکشن میں مقتدرہ کی پیپلز پارٹی کے مقابلے میں نون کو فوقیت دینے نے فی الحال پیپلز پارٹی کو سخت ناراض کررکھا ہے۔ حالات سازگار ہوتے تو وفاقی وزیر داخلہ کی تقریر کے بعد نون اور پیپل دونوں آمادہ پیکار ہوجاتے مسئلہ یہ ہے کہ نونی اورپیپل دونوں سمجھدار اور تجربہ کار ہیں انہیں بخوبی علم ہے کہ حالات ساز گار نہیں ہیں مقتدرہ کا طوطی بول رہا ہے جبکہ ان دونوں کی سیاست کمزور ترین اور عدم مقبولیت کی آخری حدوں کو چھو رہی ہے نون کا تو طے ہے کہ وہ جھٹکا برداشت کرکے اسی ٹرین میں سوار رہے گی پیپل کے پاس جگہ کم اور مشکلات زیادہ ہیں دیکھتے ہیں کہ وہ کوئی ڈیل کرنے کی پوزیشن میں ہیں بھی یا نہیں؟ پیپلز پارٹی کی پہلی ترجیح بہرحال لڑائی سے پرہیز ہی ہوگا۔

