اوٹاوا (سی ٹی وی نیوز)کنزرویٹو لیڈر پیئر پولیورنے واضح طور پر یہ نہیں بتایا کہ آیا ان کی پارٹی کے مزید اراکین لبرلز میں شامل ہو سکتے ہیں یا نہیں، یہ بیان اس وقت آیا جب پچھلے ہفتے کنزرویٹیو ایم پی مائیکل ما نے اچانک لبرلز میں شمولیت اختیار کی۔
مائیکل ما، جو اونٹاریو کے حلقہ مارکھم-یونین ویل سے منتخب ہوئے، اس سال کے وفاقی انتخابات میں پہلے منتخب ہوئے تھے۔ ان کی شمولیت کے بعد لبرلز کی نشستیں 171 ہو گئی ہیں، جو اکثریت سے صرف ایک ووٹ کم ہیں۔
ما کنزرویٹیو رینک سے نکلنے والے تیسرے ایم پی ہیں۔ نومبر میں وفاقی بجٹ کے بعد، نووا سکاٹیا کے ایم پی کرس ڈینٹریمونٹ بھی لبرلز میں شامل ہو گئے تھے، جبکہ البیٹا کے ایم پی میٹ جینرو نے بھی فروری میں استعفی دینے کا اعلان کیا۔
توانائی و قدرتی وسائل کے وزیر ٹم ہاجسن نے بتایا کہ انہیں دیگر ایم پیز کی طرف سے “کافی انکوائریز” موصول ہو رہی ہیں جو پارٹی چھوڑنے پر غور کر رہے ہیں۔ حکومت کے ہاؤس لیڈر اسٹیون میک کینن کے مطابق کنزرویٹو پارٹی کے کچھ اراکین اپنی قیادت سے “انتہائی مایوس” ہیں۔
پویلویو نے سی بی ٹیوی نیوز کو بتایا کہ وہ اس معاملے سے “فکرمند” ہیں، لیکن وہ کینیڈین عوام کی روزمرہ ضروریات اور معاشرتی مسائل پر توجہ مرکوز رکھیں گے۔ انہوں نے کہا، “میرا واحد مقصد لوگوں کے لیے مناسب خوراک، محفوظ گھر اور محفوظ سڑکیں یقینی بنانا ہے، اور یہی ہم جاری رکھیں گے۔”
کنزرویٹو پارٹی کے نیشنل کنونشن میں پویلویو کو قیادت کی نظرثانی کے عمل کا سامنا کرنا ہے، جو جنوری کے آخر میں ہوگا۔ پویلویو نے کہا کہ پارٹی کے مزید اراکین کے لبرلز میں شامل ہونے یا نہ ہونے کے بعد قیادت برقرار رکھنے کا فیصلہ پارٹی ممبران کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ پارٹی ممبران کے لیے ہر روز جدوجہد کر رہے ہیں اور کنونشن میں پارٹی کے ارکان فیصلہ کریں گے کہ آیا وہ انہیں قائد کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں یا نہیں۔

