کینیڈا کے امریکا سے درآمدی اشیا پر جوابی محصولات نافذ، 27.6 ارب ڈالر کی تجارت متاثر

اوٹاوا (ایجنسیاں) کینیڈا نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کینیڈین مصنوعات پر عائد 50 فیصد محصولات کے جواب میں امریکا سے درآمد کی جانے والی سیکڑوں اشیا پر نئے جوابی محصولات نافذ کردیے ہیں، جن کا مجموعی حجم تقریباً 27.6 ارب کینیڈین ڈالر ہے۔

کینیڈین حکومت کے مطابق نئے جوابی محصولات آج 8 ستمبر کو رات 12 بج کر ایک منٹ پر نافذ ہوئے ہیں اور مختلف امریکی مصنوعات پر 15، 25 اور 50 فیصد کی شرح سے عائد کیے گئے ہیں۔ ہر شے پر محصول کی شرح متعلقہ امریکی محصول کے مطابق رکھی گئی ہے تاکہ امریکی اقدامات کا ’ڈالر کے بدلے ڈالر‘ جواب دیا جاسکے۔

وزیراعظم مارک کارنی نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ تجارتی جنگ میں کینیڈا کا مقصد کشیدگی میں اضافہ کرنا نہیں بلکہ اپنے کارکنوں، کاروباری اداروں اور معیشت کا تحفظ کرنا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال آسان نہیں ہوگی اور وہ کینیڈین عوام سے اس حقیقت کو چھپانا نہیں چاہتے، تاہم ان کے بقول امریکا پر انحصار برقرار رکھنے کا متبادل اس سے کہیں زیادہ نقصان دہ ہوسکتا ہے۔

مارک کارنی نے ایک قومی ویڈیو خطاب میں کہا کہ کینیڈا کو موجودہ تجارتی بحران سے زیادہ مضبوط اور زیادہ خود کفیل ہوکر نکلنا ہے تاکہ مستقبل میں کوئی ملک کینیڈا کو ’یرغمال‘ نہ بنا سکے۔ انہوں نے کہا کہ نئی محصولات کینیڈین کارکنوں کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں۔

کینیڈا کے محکمہ خزانہ کے مطابق نئے محصولات کا ہدف امریکا سے درآمد ہونے والی ان اشیا کے شعبے ہیں جو امریکی تجارتی اقدامات سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ ان میں اسٹیل اور ایلومینیم، دودھ اور دیگر ڈیری مصنوعات، گھریلو آلات، زرعی مشینری، پلپ اور کاغذ، پلاسٹک اور الیکٹرانکس سمیت مختلف مصنوعات شامل ہیں۔ بعض اسٹیل اور ایلومینیم مصنوعات پر پہلے عائد 25 فیصد جوابی محصول بڑھا کر 50 فیصد کردیا گیا ہے، جبکہ فرنیچر اور ملبوسات بھی 50 فیصد محصول کی فہرست میں شامل ہیں۔

کینیڈین حکومت نے واضح کیا ہے کہ نئے جوابی محصولات صرف امریکا میں تیار ہونے والی اور امریکی اصل کی حامل اشیا پر لاگو ہوں گے، جبکہ 8 ستمبر کو پہلے ہی کینیڈا کی جانب منتقل ہونے والی امریکی مصنوعات ان نئے اقدامات سے مستثنیٰ ہوں گی۔ امریکا سے گاڑیوں سمیت بعض دیگر مصنوعات پر پہلے سے عائد جوابی محصولات بھی بدستور برقرار رہیں گے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کینیڈا کی متعدد مصنوعات پر 50 فیصد محصول 22 اگست سے نافذ کیا گیا تھا۔ امریکی انتظامیہ نے بعض کینیڈین تجارتی پالیسیوں کو ’امتیازی‘ قرار دیتے ہوئے مختلف شعبوں کو نشانہ بنایا، جن میں بعض امریکی مصنوعات پر کینیڈین پابندیاں اور کوٹے بھی شامل ہیں۔

کینیڈا نے نئی صورتحال سے متاثر ہونے والے کارکنوں اور کاروباری اداروں کے لیے 7.5 ارب ڈالر کے اضافی امدادی پیکیج کا بھی اعلان کیا ہے۔ حکومت کے مطابق اس میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے لیے مالی معاونت اور مختلف شعبوں کو امریکی محصولات کے اثرات سے نمٹنے میں مدد دینے کے اقدامات شامل ہیں۔

دوسری جانب کینیڈا کی کنزرویٹو پارٹی کے سربراہ پیئر پوئیلیور نے بھی ٹرمپ کی محصولات کی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے، تاہم انہوں نے وزیراعظم مارک کارنی سے مطالبہ کیا ہے کہ کینیڈین عوام کو واضح طور پر بتایا جائے کہ جوابی محصولات کے نتیجے میں روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتوں پر کیا اثر پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ عام خاندان، چھوٹے کاروباری مالکان اور بزرگ شہریوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ نئے محصولات کی قیمت بالآخر انہیں کتنی ادا کرنا پڑے گی۔

دریں اثنا، تازہ اینگس ریڈ انسٹی ٹیوٹ سروے کے مطابق کینیڈا میں تجارتی جنگ کے باوجود بڑی تعداد میں شہری حکومت کی موجودہ حکمتِ عملی کی حمایت کرنے کے لیے زیادہ قیمتیں ادا کرنے پر آمادہ ہیں۔ 3 اور 4 ستمبر کو تقریباً 1500 کینیڈین بالغ افراد سے کیے گئے سروے میں 60 فیصد نے کہا کہ اگر اس کا مطلب گھریلو اخراجات، جن میں اشیائے خورونوش اور کپڑے بھی شامل ہیں، پر 10 یا 20 فیصد اضافی رقم ادا کرنا ہو تب بھی وہ حکومت کی موجودہ مذاکراتی حکمتِ عملی پر قائم رہنے کے حق میں ہیں۔

کینیڈا اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی کے دوران ’بائے کینیڈین‘ مہم بھی زور پکڑ رہی ہے، جبکہ اوٹاوا امریکا پر انحصار کم کرکے دیگر عالمی منڈیوں میں تجارت بڑھانے اور ملکی معیشت کو مزید مضبوط بنانے کی کوششوں پر زور دے رہا ہے۔