اوٹاوا( نمائندہ خصوصی) — کینیڈا کے سیکرٹری آف اسٹیٹ فار اسپورٹس ایڈم وین کوورڈن نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت ہاکی کینیڈا پر قریبی نگرانی جاری رکھے گی، اور یہ نگرانی آئندہ مستقبل تک برقرار رہے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ اقدام ہاکی کینیڈا کی وفاقی فنڈنگ سے منسلک ایک لازمی شرط ہے۔
سی بی سی نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں وین کوورڈن نے کہا کہ ہاکی کینیڈا نے اپنی اندرونی ثقافت میں بہتری کے لیے کچھ پیش رفت کی ہے، مگر ابھی بہت کام باقی ہے۔ انہوں نے کہا: “یہ صرف خانہ پُری کا معاملہ نہیں بلکہ ایک بڑی ثقافتی تبدیلی کا تقاضا ہے جس کے لیے شفافیت، جواب دہی اور وقت درکار ہے۔”
یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے 2022 میں ہاکی کینیڈا کی فنڈنگ اس وقت معطل کر دی تھی جب یہ انکشاف ہوا تھا کہ تنظیم نے 2018 ورلڈ جونیئر ٹیم کے بعض کھلاڑیوں پر جنسی زیادتی کے الزام کے بعد مدعیہ (جسے E.M. کے نام سے جانا جاتا ہے) کو خفیہ تصفیے کے ذریعے معاوضہ ادا کیا۔ عوامی غم و غصے کے بعد پارلیمانی کمیٹی نے تحقیقات کیں، اسپانسرز نے فنڈنگ روک دی اور ہاکی کینیڈا کا بورڈ اور چیف ایگزیکٹو مستعفی ہو گئے۔
2023 میں حکومت نے ہاکی کینیڈا کی فنڈنگ بحال کی، مگر یہ شرط رکھی کہ ادارہ ہر سہ ماہی میں اپنی اصلاحی پیش رفت کی رپورٹ وفاقی حکومت کو پیش کرے گا۔ ان رپورٹس میں سابق سپریم کورٹ جج کی سربراہی میں تیار کی گئی آزادانہ سفارشات بھی شامل تھیں۔
“تمام سفارشات پر عمل درآمد مکمل”
ہاکی کینیڈا نے سی بی سی نیوز کو بتایا ہے کہ اس نے تمام سفارشات پر عملدرآمد مکمل کر لیا ہے، جبکہ اسپورٹ کینیڈا ان پیش رفت کا جائزہ لے رہا ہے۔ جولائی تک کے مطابق، ہاکی کینیڈا نے نگرانی کے تمام طے شدہ اقدامات پر عمل کیا ہے۔
تاہم وین کوورڈن نے کہا کہ نگرانی ختم کرنے کیلئےکوئی حتمی تاریخ مقرر نہیں کی گئی۔ ان کے مطابق “ہم ایسا دیرپا ثقافتی بدلاؤ دیکھنا چاہتے ہیں جس کا مطالبہ کینیڈین عوام کر رہے ہیں۔”
انہوں نے ہاکی کینیڈا کی قیادت، گورننس اور آڈٹ کے نظام میں مثبت تبدیلیوں کی تعریف کی، اور بتایا کہ اب ٹیم کینیڈا کے تمام کوچز، کھلاڑیوں اور عملے کے لیے جنسی تشدد اور رضامندی پر لازمی تربیت دی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق، “یہ تربیت صرف کم از کم درکار معیار ہے، اصل تبدیلی رویوں اور سوچ میں آنی چاہیے۔”
“بدسلوکی صرف مردوں کی ہاکی تک محدود نہیں”
سابقہ عدالتی فیصلے کے بعد جاری بیان میں وین کوورڈن نے مردوں کی ہاکی کلچر کو “مسئلہ زدہ” قرار دیا۔ تاہم سی بی سی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہ نہیں سمجھتے کہ یہ مسائل صرف ہاکی یا کھیل تک محدود ہیں۔
ان کا کہنا تھا”مجھے اس رویے پر تشویش ہے جس میں خواتین کو کمتر یا حصول کی چیز سمجھا جاتا ہے اور یہ مسئلہ نہ صرف کھیل بلکہ سماج کے کئی شعبوں میں موجود ہے۔”ایڈم وین کوورڈن نے کہا کہ E.M. اور دیگر متاثرہ افراد کی ہمت نے پورے ملک میں ایک اہم مکالمہ شروع کیا ہے، جو صرف ہاکی نہیں بلکہ تمام کھیلوں میں بہتری کیلئےسنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

