یونان کے قریب تارکینِ وطن کی 2 کشتیاں الٹ گئیں، شیرخوار بچے سمیت 12 افراد ہلاک

ایتھنز (رائٹرز) یونان کے شمال مشرقی بحیرہ ایجیئن میں جزائر لیسبوس اور ساموس کے قریب تارکینِ وطن کو لے جانے والی 2 کشتیاں الٹنے سے شیرخوار بچے سمیت 12 افراد ہلاک ہو گئے، جبکہ متعدد افراد کو بچا لیا گیا۔ حکام کے مطابق دونوں واقعات اس وقت پیش آئے جب کوسٹ گارڈز کی جانب سے کشتیوں کا تعاقب کیا جا رہا تھا۔

یونانی کوسٹ گارڈ کے مطابق ترکیہ سے تارکینِ وطن کو لے جانے والی ایک تیز رفتار کشتی ساموس جزیرے سے تقریباً 4 سمندری میل شمال میں اچانک رخ بدلنے کے دوران الٹ گئی۔ اس حادثے میں 5 مرد اور ایک خاتون ہلاک ہوئے، جبکہ 14 مردوں کو بچا لیا گیا۔ لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے امدادی کارروائی جاری تھی۔ حکام نے بچائے جانے والوں میں شامل ایک ایرانی شہری کو انسانی اسمگلنگ کے شبہے میں گرفتار کر لیا۔

اس سے قبل لیسبوس جزیرے کے علاقے اگریلیا کے قریب ایک اور کشتی یونانی کوسٹ گارڈ کے جہاز سے ٹکرا کر الٹ گئی۔ اس حادثے میں 4 مرد، ایک خاتون اور ایک شیرخوار بچہ ہلاک ہو گئے، جبکہ 8 افراد کو بچا کر اسپتال منتقل کیا گیا۔ حکام نے بچ جانے والوں میں شامل 37 سالہ ترک شہری کو گرفتار کر لیا، جس پر کشتی چلانے اور انسانی اسمگلنگ میں ملوث ہونے کا شبہ ہے۔

یونان کے وزیر برائے جہاز رانی و جزائر واسیلیس کیکیلیاس نے کہا کہ ابتدائی شواہد کے مطابق تیز رفتار کشتی کا اگلا حصہ کوسٹ گارڈ کے جہاز کے بائیں جانب سے ٹکرایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ واقعے کے اصل حالات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

یونانی حکومت نے انسانی اسمگلروں کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اختیار کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اموات کا ذمہ دار اسمگلروں کو قرار دیا ہے۔

یونان کئی برسوں سے مشرقِ وسطیٰ، افریقہ اور ایشیا سے یورپ جانے والے تارکینِ وطن اور پناہ گزینوں کے لیے اہم راستہ رہا ہے۔ 2015ء اور 2016ء کے دوران تقریباً 10 لاکھ افراد، جن میں زیادہ تر ترکیہ کے راستے آئے تھے، یونانی جزائر پر پہنچے تھے۔ بعد ازاں یونان نے تارکینِ وطن سے متعلق اپنی پالیسی سخت کر دی، تاہم انسانی حقوق کی تنظیمیں اس کی سرحدوں پر تارکینِ وطن کو زبردستی واپس بھیجنے کے الزامات عائد کرتی رہی ہیں، جن کی یونانی حکام تردید کرتے ہیں۔