ایڈمنٹن (سی بی سی نیوز / سٹی نیوز / کینیڈین پریس)البرٹا کی حکومت نے صوبے کی تاریخ کی سب سے بڑی اساتذہ ہڑتال ختم کرنے کیلئے کینیڈین آئین کی نات وِتھ اسٹینڈنگ کلاز استعمال کرتے ہوئے 51 ہزار اساتذہ کو فوری طور پر اسکولوں میں واپس جانے کا حکم دے دیا ہے۔ یہ شق حکومت کو شہری آزادیوں اور مزدور حقوق سمیت آئینی شقوں کو پانچ سال تک معطل کرنے کا اختیار دیتی ہے۔
اساتذہ کی یہ ہڑتال اکتوبر کے آغاز میں شروع ہوئی تھی، جس میں ہزاروں اساتذہ نے کلاسوں کے بڑے حجم، ناکافی تنخواہوں اور مشکل کام کے حالات کے خلاف احتجاج کیا۔ اگر حکومت کا پیش کردہ بل منظور ہو گیا تو طلبہ بدھ کے روز سے اسکولوں میں واپس آئیں گے۔
قانونی ماہرین کے مطابق حکومت کا یہ اقدام ہڑتال کو ختم ضرور کر دے گا مگر تنازع کو نہیں۔ ان کے بقول یہ فیصلہ آنے والے دنوں میں مزدور کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
ماہرِ روزگار قانون پُنیت تیواری نے کہا ہے کہ نات وِتھ اسٹینڈنگ کلاز کے استعمال کے بعد اساتذہ کے پاس عدالتی چارہ جوئی کا کوئی راستہ باقی نہیں رہا۔ ان کے مطابق اگر کوئی استاد حکومت کے حکم کے باوجود اسکول واپس نہیں جاتا تو اسے ملازمت چھوڑنے کے مترادف سمجھا جائے گا۔
تیواری کا کہنا ہے کہ اساتذہ اب ممکنہ طور پر “ورک ٹو رول” کی حکمت عملی اختیار کریں گے، جس کے تحت وہ صرف اتنا ہی کام کریں گے جتنا ان کے معاہدے میں لازم ہے۔ اس طرزِعمل کے نتیجے میں ہم نصابی سرگرمیاں متاثر ہوں گی، کھیلوں کی ٹیمیں نہیں بن سکیں گی اور طلبہ کو اضافی مدد بھی میسر نہیں ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایسی ہی صورتحال تقریباً 20 سال پہلے بھی البرٹا میں دیکھی گئی تھی، جب حکومت کے فیصلے کے بعد اساتذہ بغیر اطمینان کے واپس کلاسوں میں گئے تھے۔
ادھر حکومت کے اس اقدام کے بعد اب دیگر مزدور تنظیموں کے ساتھ تصادم کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ صوبے کی تیس یونینوں کے اتحاد “کامن فرنٹ” نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ اگر حکومت نے نات وِتھ اسٹینڈنگ کلاز استعمال کی تو وہ غیر معمولی ردعمل دیں گے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس قانون کے تحت اسکول فوری طور پر کھل جائیں گے، لیکن اس کے اثرات طویل مدتی ہوں گے اور یہ قدم البرٹا میں مزدور سیاست کے ایک نئے دور کا آغاز کر سکتا ہے۔

