بلا نہیں اب ہاکی چلے گی۔۔۔!

پاکستان کا قومی کھیل ہاکی ہے، مگر یہ گزشتہ 25 سال (موجودہ صدی) میں پیدا ہوئی نوجوان نسل کو یاد بھی نہیں۔ ان کے نزدیک تو کرکٹ ہی ”ہمارا“ قومی کھیل ہے۔ اس نسل کا یہ خیال بھی ہے کہ ہم کرکٹ کے ”فاتح اعظم / بابر اعظم / سکندر اعظم“ ہیں۔ جہاں جائیں گے میدان فتح کرتے چلے جائیں گے لیکن جب ہمارے ڈھیروں سکندر اعظم / بابر اعظم ناکام ہوتے اور”مفتوح“ بن جاتے ہیں تو پھر موبائل اور انٹرنیٹ کی ”پیدائشی عادی نسل“ ان کے ساتھ جو ”سلوک کرتی“ اور جس طریقے سے اندھا دھند گولا باری کرتی ہے اس کی ان ”مفتوح کھلاڑیوں“ کو عادت نہیں ہے حالانکہ یہ خود بھی انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی پیداوار ہیں اور اسی کے ذریعے اپنے آپ کو ”فاتح اعظم بنوا“ کے پیش کرتے ہیں، لیکن شکر ہے کہ اب اچانک پاکستان ہاکی نے ”سرپرستی“ ملتے ہی اپنے آپ کو ایک ”بڑے کردار“ کے لئے پیش کر دیا ہے۔ چند ماہ پہلے تک یہ سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا کہ پاکستان ہاکی ٹیم جو کہ دنیائے ہاکی میں 18 ویں نمبر پر ہے وہ ورلڈ کپ 2026ء کے لئے کوالیفائی کر لے گی کیونکہ پہلے اومان اور پھر ”ہوبارٹ“ آسٹریلیا میں پی ایچ ایف نے اس ٹیم کے ساتھ جو سلوک روا رکھا اور جن بدترین حالات میں کھلاڑیوں کو وہاں رکھا گیا اس کے بعد کھلاڑیوں سے کوئی اُمید رکھنا عبث تھا۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن نے بدترین سلوک کی رہی سہی کسر آسٹریلیا میں پوری کر دی تھی۔ حکومت پاکستان نے پاکستان ہاکی فیڈریشن کو 25 کروڑ روپے کی گرانٹ دی تھی لیکن وہ پیسہ پی ایچ ایف کے ”نکالے گئے صدر“ طارق بگٹی کے بقول ہاکی فیڈریشن کو نہیں دیا گیا، چنانچہ پیسہ نہ ہونے پر ”پرو لیگ“ کھیلنے کے لئے آسٹریلیا جانے والی پاکستان ہاکی ٹیم کی ہوٹل بکنگ کینسل ہو گئی اور کھلاڑیوں کو ایک گیسٹ ہاوس میں رہائش دی گئی، جہاں کھانا پکانا ، سامان بازار سے لانا، روٹیاں پکانا، برتن دھونا، گھر کی صفائی کرنا بھی کھلاڑیوں کے ذمہ ٹھہرا۔ پاکستان ہاکی ٹیم کے کپتان عماد بٹ نے اس سلوک پہ احتجاج کیا اور سوشل میڈیا پر کھلاڑیوں کو کام کاج کرتے، برتن دھوتے، کھانا پکاتے، صفائیاں کرنے کی تصاویر وائرل کر دیں تو پاکستان میں کہرام مچ گیا۔ رکن سٹینڈنگ کمیٹی بین الصوبائی رابطہ اور پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سیدہ شہلا رضا نے کراچی میں سینئر اولمپینز کے ساتھ پریس کانفرنس کی اور وزیراعظم سے ہاکی فیڈریشن کے صدر طارق بگتی، سیکرٹری جنرل رانا مجاہد اور ان کے حواریوں کو فوری ”گھر بھیجنے“ کا مطالبہ کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اپنی حلیف جماعت کے ”مطالبے“ کو منظور کر لیا۔ طارق بگتی، سیکرٹری جنرل رانا مجاہد اور ان کے ”حواریوں“ (کوچنگ سٹاف طاہر زمان، شیخ عثمان اور ذیشان اشرف) سے استعفا لے لیا گیا، لیکن طارق بگتی نے استعفا دینے سے پہلے ہاکی ٹیم کے کپتان عماد بٹ کو دو سال کے لئے ”بین“ کر دیا۔ طارق بگتی نے اپنی جبری رخصتی پر پاکستان سپورٹس بورڈ کے ڈائریکٹر جنرل یاسر پیر زادہ اور سیکرٹری جنرل خالد محمود پر خاصے الزامات عائد کئے لیکن وہ سیدہ شہلہ رضا کی طرف سے عائد کیے گئے الزامات کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں تھے (جنہوں نے سپورٹس بورڈ پر ڈیڑھ ارب کی کرپشن کا الزام لگایا)۔پاکستان سپورٹس بورڈ کا معاملہ تو حکومت جانے؟ وزیراعظم جانے کہ اس ملک کے اندر کروڑوں اربوں روپے جس پاکستان سپورٹس کو دیئے جاتے ہیں وہ ایک بھی کھلاڑی آج تک کسی بھی کھیل کے لئے پیدا نہیں کر سکا،بلکہ اس نے تو تمام ہی کھیل تباہ و برباد کر کے رکھ دئیے ہیں۔ پاکستان میں کھلاڑی اپنی اپنی کوششوں کی بدولت عروج پر پہنچتے ہیں جس میں سپورٹس بورڈ کا کسی قسم کا کوئی کردار نہیں ہے۔ پاکستان سپورٹس بورڈ اور اس کی ذیلی فیڈریشنیں حکومت پاکستان اور غیر ملکی انٹرنیشنل فیڈریشنوں سے خطیر رقوم لیکر اپنے اللوں تللوں پر خرچ کر دیتی ہیں۔

فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا پاکستان کو ”فٹبال نیشن“ بنانے کے لئے کوشاں ہے لیکن ہم نے بھی قسم کھائی ہے کہ ہم نے فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا کی ہر کوشش ناکام بنانی ہے۔ بہرحال وزیراعظم نے شہلا رضا اور اولمپینز کے مطالبے پہ طارق بگتی، رانا مجاہد اور ان کے حواریوں کی چھٹی کرنے کے بعد اپنے ”بھروسے“ کے سینئر بیوروکریٹ محی الدین وانی جو اِس وقت بین صوبائی رابطہ وزارت کے سیکرٹری ہیں کو فیڈریشن کا ایڈہاک صدر بنا دیا ہے۔ محی الدین وانی نے حالات کو بدلنے، ہاکی کو زندہ کرنے کا کہا ہے، وہ ہاکی کو دوبارہ بلندیوں پر لے جانے کے لئے بہت پُرعزم ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی ہاکی کھلاڑیوں کو 10، 10 لاکھ روپے کی خطیر رقم دی ہے اور انہیں یقین دلایا ہے کہ وہ ہر مشکل میں حاضر ہیں۔ پھر سب نے دیکھا کہ ہاکی کھلاڑیوں نے وہ کر دکھایا جو برسوں سے نہیں ہو سکا تھا۔ مصر میں ہونے والے ورلڈ کپ کوالیفائنگ راؤنڈ میں پاکستان نے چین، ملائشیا، آسٹریا اور پھر جاپان کو ہرا کر ورلڈ کپ 2026ء کے لئے کوالیفائی کر لیا ہے۔ پاکستان آٹھ سال بعد ورلڈ کپ میں شرکت کرے گا۔ چار مرتبہ عالمی چیمپئن بننے والا پاکستان بدقسمتی سے ہاکی میں حکومتی سرپرستی نہ ہونے کی وجہ سے بہت نیچے جا چکا تھا، لیکن آج کھلاڑیوں نے اپنے کھیل سے یہ ثابت کیا ہے کہ ان کو ”تھوڑی سی شاباشی – تھوڑی سی مدد“ کچھ وسائل، کچھ اچھا ماحول چاہئے وہ معجزے بھی کر سکتے ہیں۔ بہرحال کرکٹ ٹیم کی بری کارکردگی کے بعد اب پوری قوم کی نظریں دوبارہ ہاکی ٹیم پہ لگ گئی ہیں اور وہ دعا گو ہیں کہ ہاکی میں دوبارہ پاکستان کی قسمت کا ستارہ چمکے گا۔ پاکستانی ٹیم ایک بار پھر اس ملک کو عزت دلوائے گی اور جب جیت کر سب سے بلند پوزیشن پر کھڑی ہوگی اور گراؤنڈ کے اندر پاکستان کا قومی ترانہ بجایا جائے گا تو ایک بار پھر پاکستانیوں کے دل فخر سے جھوم اٹھیں گے۔