ٹورنٹو (سی بی سی نیوز / گلوب اینڈ میل / کینیڈین پریس)اونٹاریو کے اٹارنی جنرل ڈگ ڈاؤنی نے اسمبلی میں ایک نیا انتخابی اصلاحاتی بل پیش کیا ہے، جس کے تحت صوبے میں مقررہ انتخابی تاریخوں (Fixed Election Dates) کا نظام ختم کرنے، سیاسی جماعتوں کے عطیات کی حد بڑھانے اور فی ووٹ سرکاری سبسڈی (public per-vote subsidy) کو مستقل بنانے کی تجاویز شامل ہیں۔
ڈگ ڈاؤنی نے پیر کے روز قانون ساز اسمبلی میں کہا کہ وہ امریکی طرز کے مقررہ انتخابی تاریخوں کے نظام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، کیونکہ یہ نظام حکومت کو ہنگامی یا بیرونی خطرات سے نمٹنے کے لیے ضروری سیاسی لچک فراہم نہیں کرتا۔
یہ نظام تقریباً بیس سال قبل اُس وقت کے وزیرِ اعلیٰ ڈالٹن میگنٹی نے متعارف کرایا تھا۔ اس کے تحت اگلا صوبائی انتخاب 2029 میں ہونا تھا، تاہم نئے بل کی منظوری کی صورت میں وزیرِ اعلیٰ کو کسی بھی وقت اسمبلی تحلیل کر کے قبل از وقت انتخابات کرانے کا اختیار حاصل ہوگا۔
ڈاؤنی نے کہا کہ “یہ تبدیلیاں حکومت کو بدلتی ہوئی معاشی اور بین الاقوامی صورتحال کے تقاضوں کے مطابق فیصلے کرنے کی گنجائش فراہم کریں گی۔”
اگرچہ موجودہ قانون کے تحت بھی حکومتیں طے شدہ تاریخ سے پہلے انتخابات کرانے کی مجاز ہیں، تاہم یہ اصول زیادہ تر سیاسی استحکام کے لیے رکھا گیا تھا۔ وزیرِ اعلیٰ ڈگ فورڈ نے اسی اختیار کا استعمال کرتے ہوئے رواں سال فروری میں قبل از وقت انتخابات کروائے تھے۔ اُس وقت انہوں نے کہا تھا کہ انہیں امریکی تجارتی پالیسیوں اور محصولات کے خطرات سے نمٹنے کے لیے نیا مینڈیٹ درکار ہے۔
بل میں دوسری بڑی تبدیلی کے طور پر سیاسی جماعتوں کے لیے عطیات کی سالانہ حد کو 3,400 ڈالر سے بڑھا کر 5,000 ڈالر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ مزید یہ کہ آئندہ اس حد میں اضافہ مہنگائی کی شرح (inflation) کے ساتھ خودکار طور پر منسلک ہوگا۔
بل کے مطابق، حکومت نے سیاسی جماعتوں کے لیے فی ووٹ سرکاری فنڈنگ (public per-vote subsidy) کو بھی مستقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ سبسڈی اب سہ ماہی بنیادوں پر ادا کی جائے گی۔ یاد رہے کہ پروگریسو کنزرویٹو حکومت نے رواں سال انتخابات سے قبل ایک عارضی قانون منظور کیا تھا جس کے تحت یہ فنڈنگ 2027 تک بڑھائی گئی تھی، لیکن اب اسے مستقل حیثیت دینے کا منصوبہ ہے۔
اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کی تجاویز پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ عطیات کی حد بڑھانے سے کارپوریٹ اثر و رسوخ میں اضافہ ہوگا، جبکہ مقررہ انتخابی تاریخوں کے خاتمے سے جمہوری شفافیت متاثر ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب حکومتی وزراء کا مؤقف ہے کہ یہ اصلاحات جمہوری تسلسل برقرار رکھنے اور سیاسی فنانسنگ کے نظام کو موجودہ اقتصادی حالات سے ہم آہنگ بنانے کے لیے ضروری ہیں۔

