اوٹاوا کا بیل اینڈ سینٹینسنگ ریفارم ایکٹ پیش کردیاگیا، بی سی کی تجاویز شامل

اوٹاوا (نمائندہ خصوصی) اوٹاوا نے بیل اور سزا اصلاحات کا نیا بل پیش کر دیا، بی سی کی تجاویز سے اہم تبدیلیاں شامل.بی سی کے مؤثر کردار کے ساتھ اوٹاوا کا نیا بیل اینڈ سینٹینسنگ ریفارم ایکٹ پیش، پرتشدد اور عادی مجرموں کیخلاف سخت اقدامات شامل ہیں۔

اوٹاوا نے گزشتہ ہفتے بل C-14 پارلیمنٹ میں پیش کیا جس کا مقصد عادی اور پرتشدد مجرموں کیخلاف قوانین کو سخت بنانا ہے۔ اس نئے قانون کی تیاری میں برٹش کولمبیا نے مرکزی کردار ادا کیا، جہاں کی صوبائی حکومت، میئرز اور پولیس فورسز طویل عرصے سے ایسے مجرموں کو دور رکھنے کیلئےسخت قوانین کا مطالبہ کر رہی تھیں۔

بل کے مطابق ریورس اونَس (Reverse Onus) کی شق شامل کی گئی ہے، جس کے تحت پرتشدد، بھتہ خوری اور جنسی جرائم کے مقدمات میں ملزم پر یہ ذمہ داری عائد ہوگی کہ وہ عدالت کو قائل کرے کہ اسے ضمانت پر کیوں رہا کیا جائے۔ اس سے قبل یہ ذمہ داری پراسیکیوشن پر ہوتی تھی۔ یہ تجویز براہِ راست بی سی کی اٹارنی جنرل نِکی شرما اور پبلک سیفٹی منسٹر نینا کریگر کی جانب سے دی گئی تھی۔

وفاقی وزیرِ انصاف شین فریزر نے وکٹوریا میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ “بی سی کی دونوں وزیروں کی جانب سے جو سطحی مشاورت اور دلچسپی نظر آئی وہ میری پچھلے دس سالہ وفاقی سیاسی تجربے میں بہت کم دیکھنے کو ملی ہے۔”

فریزر نے مزید بتایا کہ بی سی نے سزاؤں سے متعلق تجاویز میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے، جن میں یہ شق شامل ہے کہ اگر بھتہ خوری کے ساتھ آتشزدگی جیسے دیگر سنگین جرائم بھی شامل ہوں تو مجرم کو الگ الگ سزائیں بھگتنی ہوں گی، یعنی تمام سزائیں ایک ساتھ نہیں بلکہ تسلسل سے پوری کی جائیں گی۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی شخص بھتہ خوری کرتے ہوئے کسی کا گھر یا کاروبار جلا دیتا ہے تو اب اسے دونوں جرائم کی سزائیں علیحدہ علیحدہ ملیں گی۔

بل کے تحت گھریلو نظربندی کی سہولت بھی سنگین جنسی جرائم، خصوصاً بچوں کے خلاف جرائم کے مجرموں کے لیے ختم کر دی جائے گی، جو کہ بی سی کی ایک اور بڑی ترجیح تھی۔

دیگر اہم تجاویز میں شامل ہیں۔

ضمانت کی سماعتوں میں صرف حالیہ جرم نہیں بلکہ ملزم کے تمام زیر التوا مقدمات کو مدنظر رکھا جائیگا۔ڈرائیونگ پر پابندی کے اختیارات کو بحال کیا جائیگاجہاں کسی کی موت یا جسمانی نقصان کریمنل نیگلیجنس کے باعث ہوا ہو۔بی سی ریویو بورڈ کی کارروائیوں کو آن لائن کرنے کی اجازت دی جائیگی تاکہ عدالتی نظام پر دباؤ کم ہو۔

نِکی شرما نے کہا، “ہم چاہتے تھے کہ بی سی کی ترجیحات اس بل میں واضح طور پر نظر آئیں، اور میں وزیر فریزر اور ان کی ٹیم کی شکرگزار ہوں۔”

وزیر فریزر نے مزید کہا کہ ایک دوسرا بل بھی جلد پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا، جس میں خواتین کے خلاف تشدد، قریبی تعلقات میں قتل، جنسی جرائم، اور عدالتی تاخیر جیسے معاملات پر مزید سخت اقدامات شامل ہوں گے۔

شرما نے کہا کہ “بی سی اس اگلے مرحلے میں بھی اپنا کردار ادا کرے گا تاکہ ہمارا عدالتی نظام ایسا ہو جو قانون کا احترام کرے، خطرناک افراد کو قید کرے اور پورے ملک میں محفوظ معاشرے تشکیل دے۔”

اپنا تبصرہ لکھیں