بھارت کے یکطرفہ اقدامات سے علاقائی امن خطرے میں، سندھ طاس معاہدہ سیمینار کے مقررین

اسلام آباد (اے پی پی) قومی سیاسی قیادت، بین الاقوامی قانونی ماہرین اور پالیسی تجزیہ کاروں سمیت مقررین نے منگل کے روز بھارت کے تاریخی سندھ طاس معاہدے (Indus Waters Treaty – IWT) کو یکطرفہ اور غیر قانونی طور پر معطل کرنے کے فیصلے کی سخت مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ نئی دہلی کے اقدامات نہ صرف بین الاقوامی قانونی نظام کی بنیادوں کو کمزور کر رہے ہیں بلکہ جنوبی ایشیا میں ایک سنگین تزویراتی تصادم کا خطرہ بھی پیدا کر رہے ہیں۔

اسلام آباد میں “سندھ طاس معاہدہ: امن اور علاقائی استحکام کا ایک ذریعہ” کے عنوان سے منعقدہ بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے زور دیا کہ 1960 کا معاہدہ ایک بین الاقوامی طور پر پابند معاہدہ ہے جسے یکطرفہ طور پر معطل یا منسوخ نہیں کیا جا سکتا۔

انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز (IRS) نے وزارت اطلاعات و نشریات کے اشتراک سے اس سیمینار کا انعقاد کیا، جس میں وفاقی وزراء، سفارت کاروں اور بین الاقوامی ماہرین نے شرکت کی۔ مقررین کا کہنا تھا کہ عالمی موسمیاتی بحران کے دوران بھارت کی جانب سے اہم آبی معلومات کی فراہمی اور معاہدے کے تحت لازمی معائنوں کی معطلی پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے مترادف ہے، جو پاکستان کے 24 کروڑ سے زائد عوام کی زندگیوں اور روزگار کے لیے براہِ راست خطرہ ہے۔

ماہرین نے نشاندہی کی کہ سندھ طاس معاہدہ دنیا کے اہم ترین سرحد پار آبی معاہدوں میں شمار ہوتا ہے، جو بنیادی طور پر آبپاشی پر انحصار کرنے والی معیشت اور 24 کروڑ سے زائد افراد کے روزگار کو سہارا دیتا ہے۔ پاکستان کی 80 فیصد سے زیادہ قابلِ کاشت زمین دریائے سندھ کے پانی پر منحصر ہے، اس لیے پیشگی معلومات، ڈیٹا کا تبادلہ اور معاہدے کے معمول کے طریقہ کار انسانی تحفظ، غذائی تحفظ اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے ناگزیر ہیں۔

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ نئی دہلی نے سندھ طاس معاہدے کو غیر قانونی طور پر معطل کرکے بین الاقوامی قانونی نظام کو نقصان پہنچایا اور خطے کو تصادم کے خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔ وہ انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز (IRS) اور وزارت اطلاعات و نشریات کے اشتراک سے منعقدہ بین الاقوامی سیمینار “سندھ طاس معاہدہ: امن اور علاقائی استحکام کا ایک ذریعہ” کے اختتامی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ سرحد پار دریاؤں کو اختلاف کا سبب بنانے کے بجائے ممالک کو قریب لانے کا ذریعہ سمجھا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے اسی جذبے کے تحت بھارت کے ساتھ سندھ طاس معاہدے پر دستخط کیے، اگرچہ اس کے لیے پاکستان کو نمایاں رعایتیں دینا پڑیں۔ اسلام آباد کا یقین تھا کہ یہ معاہدہ خطے کے اہم ترین مشترکہ وسائل میں سے ایک کے استعمال کے حوالے سے طویل المدتی پیش بینی فراہم کرے گا۔

اسحاق ڈار نے بھارت کی جانب سے معاہدے کو معطل کرنے کے اعلان اور مشترکہ آبی وسائل پر معاہدے کے مطابق تعاون سے انکار پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا، “معاہدوں کا تقدس ان بنیادی ستونوں میں شامل ہے جن پر اقوام کے درمیان پُرامن تعلقات قائم ہوتے ہیں۔” انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے بھی کہا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو نظرانداز کرنا بین الاقوامی قانونی نظام، عالمی امن اور عالمی نظم کے تقدس کو کمزور کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ پاکستان کی تہذیب کی شناخت ہے اور اس کا حصہ ہے۔ “پاکستانیوں کو دریائے سندھ کے پانی پر ناقابلِ تنسیخ حق حاصل ہے۔”

انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے معاہدے کو غیر قانونی طور پر معطل کرنے کی ناکام کوشش نئی دہلی کے لیے بین الاقوامی سطح پر شرمندگی کا باعث بنی۔ انہوں نے کہا، “اس کوشش کی اخلاقی، سماجی اور قانونی بنیادیں کمزور ہیں۔” انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ خصوصاً عالمی موسمیاتی بحران کے تناظر میں بھارت کی جانب سے معاہدے کی حیثیت تبدیل کرنے کی غیر قانونی کوششوں کا نوٹس لیا جائے۔

اپنے کلیدی خطاب میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور سابق وفاقی وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اگر آبنائے ہرمز کی بندش کے ساتھ امن کا تصور ممکن نہیں تو سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے ساتھ خطے میں امن اور استحکام کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے پاکستان کی شہ رگ کو نشانہ بنا کر پانی کو بطور ہتھیار استعمال کیا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی میں بھارت کے ہر اقدام کو پاکستان کے خلاف جنگی اقدام تصور کیا جائے۔ انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ بھارت کے غیر قانونی اقدامات کو چیلنج کرنے میں پاکستان کا ساتھ دے تاکہ خطے میں کشیدگی اور تزویراتی تباہی سے بچا جا سکے۔ انہوں نے پانی سمیت عالمی مشترکہ وسائل کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے خلاف ایک بین الاقوامی کنونشن کی بھی تجویز دی۔

وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے سے متعلق بھارت کے غیر قانونی اقدامات پاکستان میں موسمیاتی بحران کو مزید سنگین بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، “یہ نہ صرف موسمیاتی بحران ہے اور نہ ہی صرف پانی کا بحران، بلکہ انصاف کا بحران ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ دنیا کے مضبوط ترین معاہدوں میں سے ایک کی خلاف ورزی کرکے بھارت نے بین الاقوامی قانونی نظام کی بنیادوں کو ہلا دیا ہے۔ ان کے مطابق بھارت کے اقدامات دنیا بھر کے زیریں کنارے والے ممالک کے حقوق کی نئی تشریح کر رہے ہیں، جس کے عالمی اثرات پر بین الاقوامی برادری کو متوجہ ہونا چاہیے۔

سابق وفاقی وزیر دفاع انجینئر خرم دستگیر خان نے بھارت کی جانب سے معاہدہ معطل کرنے کے بعد کیے گئے تمام غیر قانونی اقدامات کا ذکر کیا، جن میں بگلیہار اور سلال ڈیموں کے دروازے بند کرنا اور سندھ طاس معاہدے کے تحت آنے والے دریاؤں پر آبی منصوبوں کی تیز رفتار تکمیل شامل ہے۔

سابق وزیر مملکت برائے خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے میں اس میں کسی بھی تبدیلی کا باقاعدہ طریقہ کار موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی نظام کی غیر یقینی صورتحال کے باعث بھارت ایک بین الاقوامی طور پر پابند معاہدے کے خلاف اپنے غیر قانونی اقدام سے بچ نکلنے میں کامیاب رہا۔

سابق نگراں وفاقی وزیر قانون و انصاف احمر بلال صوفی نے سرحد پار آبی وسائل کو بین الاقوامی قانون کے تحت عالمی مشترکہ وسائل قرار دیتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی ملک اپنے علاقے سے گزرنے والے پانی پر ملکیت کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ نئی دہلی کی جانب سے معاہدہ معطل کرنا خود معاہدے کی خلاف ورزی کا اعتراف ہے، جس سے پاکستان کو قانونی طور پر جبری اور غیر جبری اقدامات کا حق حاصل ہو جاتا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل (ر) عامر ریاض، سابق صدر نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی، نے کہا کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان کے حصے کے مغربی دریاؤں پر مختلف منصوبے شروع کر چکا تھا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی نیت بھارت کی جانب سے معاہدہ معطل کرنے سے پہلے ہی موجود تھی۔

پاکستان کے کمشنر برائے سندھ طاس سید مہر علی شاہ نے کہا کہ بھارت کے اقدامات خود معاہدے کے آرٹیکل IX میں موجود تنازعات کے حل کے طریقہ کار کے خلاف ہیں۔ انہوں نے معاہدے کے تحت بھارت کی جانب سے آبی معلومات کی فراہمی معطل کیے جانے پر افسوس کا اظہار کیا۔

ماسکو کی یونیورسٹی آف ورلڈ سولائزیشنز میں سائنٹیفک سینٹر فار انٹرنیشنل اینڈ اسٹریٹجک اسٹڈیز کی سربراہ ڈاکٹر روکسانا زیگون نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ دنیا بھر میں اپنی پائیداری کے باعث سراہا جاتا رہا ہے۔ انہوں نے بھارت کے اقدامات کے باوجود پاکستانی قیادت کے ذمہ دارانہ طرزِ عمل کو سراہا، خصوصاً اس وقت جب بھارت کے اعلیٰ حکام کی جانب سے اشتعال انگیز بیانات سامنے آ رہے تھے۔

امریکا سے تعلق رکھنے والی مصنفہ اور عالمی پالیسی ماہر لوری واٹکنز نے کہا کہ نئی دہلی کی جانب سے آبی معلومات روکنا اور دریاؤں کے غیر معمولی بہاؤ سے متعلق پاکستان کے تحریری خطوط کا جواب نہ دینا، معاہدے کی معطلی کے باوجود بھی بین الاقوامی عرفی قانون کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔

بیجنگ میں سینٹر فار چائنا اینڈ گلوبلائزیشن کے نائب صدر پروفیسر وکٹر گاؤ نے سندھ طاس معاہدے کی بھارتی معطلی کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ بھارت پاکستان کے لیے بالائی کنارے والا ملک ہے، لیکن چین کے لیے زیریں کنارے والا ملک ہے، اور بیجنگ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرکے پاکستان پر دباؤ ڈالنے کی بھارتی کوششوں کو روک سکتا ہے۔

اپنے اختتامی کلمات میں انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز کے صدر سفیر جوہر سلیم نے کہا کہ پائیدار امن صرف بین الاقوامی قانون کے احترام، بین الاقوامی وعدوں کی پاسداری اور ان اداروں کی قدر کے ذریعے ممکن ہے جو ممالک کو اپنے اختلافات پُرامن طریقے سے حل کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دیرپا آبی تحفظ صرف دستیاب پانی کی مقدار پر نہیں بلکہ یقین دہانی، شفافیت، پیش بینی اور تعاون پر بھی منحصر ہے، لہٰذا آگے بڑھنے کا واحد راستہ سندھ طاس معاہدے پر اس کی روح اور متن کے مطابق مکمل عمل درآمد ہے۔