جب ایندھن ہی نہیں ہوگا تو بجلی کہاں سے لاؤں گا؟ اویس لغاری

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ ملک میں 46 ہزار نہیں بلکہ 33 ہزار میگاواٹ کی انسٹالڈ پیداواری صلاحیت موجود ہے، اور اصل مسئلہ بجلی نہیں بلکہ ایندھن کی دستیابی ہے۔

نجی چینل کےپروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ ملک میں 46 ہزار میگاواٹ کی صلاحیت موجود ہے۔اویس لغاری کے مطابق ملک میں 33 ہزار میگاواٹ انسٹالڈ کیپیسٹی ہے جس میں 11 ہزار میگاواٹ ہائیڈل شامل ہے، تاہم اس وقت پانی کی کمی کے باعث صرف تقریباً 4 ہزار میگاواٹ بجلی حاصل ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سولر سے 650 میگاواٹ بجلی حاصل ہو رہی ہے جو صرف دن کے وقت دستیاب ہوتی ہے، جبکہ ونڈ انرجی سے 700 میگاواٹ میں سے رات کے وقت صرف 180 میگاواٹ پیداوار مل رہی ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ نارتھ گرڈ سے 2500 میگاواٹ بجلی منتقل نہیں ہو سکتی، جبکہ نیوکلیئر اور کول پاور پلانٹس سمیت ساہیوال پلانٹ مکمل طور پر فعال ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ لوڈشیڈنگ ایک سے ڈیڑھ گھنٹے سے زیادہ نہیں، اور اصل مسئلہ ایندھن کی کمی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “جب ایندھن ہی نہیں ہوگا تو میں بجلی کہاں سے لاؤں گا”۔اویس لغاری نے مزید کہا کہ کبھی بھی کسی سطح پر یہ نہیں کہا گیا کہ ایل این جی کی ضرورت نہیں، تاہم شام کے اوقات میں بجلی کی پیداوار کے لیے ایل این جی ناگزیر ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پہلے جتنی ایل این جی درآمد کی جا رہی تھی اس کی اتنی ضرورت نہیں تھی، جبکہ ڈیزل پر پاور پلانٹس چلانے سے فی یونٹ بجلی 5 سے 8 روپے مہنگی ہو جاتی ہے۔وفاقی وزیر کے مطابق قطر سے ایل این جی کے 4 کارگو تیار ہیں جو آئندہ 5 دن میں پاکستان پہنچنے کی توقع ہے جس سے توانائی صورتحال میں بہتری آئیگی۔