برامپٹن(نمائندہ خصوصی)وفاقی حکومت نے درلنگٹن نیو نیوکلیئر پروجیکٹ (DNNP) میں تاریخی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے، جو ایک انقلابی اقدام ہے جس کے ذریعے اونٹاریو کا توانائی گرڈ مضبوط ہوگا، ہزاروں ہنر مند ملازمتیں پیدا ہوں گی، اور کینیڈا کو صاف ایٹمی ٹیکنالوجی میں عالمی رہنما کے طور پر مستحکم مقام حاصل ہوگا۔
وزیرِاعظم مارک کارنی نے اعلان کیا کہ حکومتِ کینیڈا کینیڈا گروتھ فنڈ کے ذریعے 2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی تاکہ بوومن وِل میں واقع درلنگٹن سائٹ پر چار چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز (SMRs) کی تعمیر اور آپریشن کی حمایت کی جا سکے۔ یہ منصوبہ کینیڈا کے صاف توانائی کے مستقبل کی بنیاد قرار دیا جا رہا ہے اور اس سے کینیڈا جی 7 ممالک میں پہلا ملک بن جائے گا جو SMR ٹیکنالوجی کو فعال کرے گا۔
رکن پارلیمان سونیا سدھو نے کہا”یہ کینیڈا کی توانائی کی خودمختاری اور معاشی طاقت میں نسل در نسل سرمایہ کاری ہے۔ درلنگٹن منصوبہ 3 لاکھ سے زائد گھروں کو صاف اور قابلِ اعتماد توانائی فراہم کرے گا اور اونٹاریو بھر میں ہزاروں ملازمتوں کے مواقع پیدا کرے گا — خاص طور پر برامپٹن میں، جہاں بہت سے خاندان ہماری صوبائی نیوکلیئر سپلائی چین کا حصہ ہیں۔”
منصوبے سے ہر سال 3,700 ملازمتیں برقرار رہنے اور تعمیراتی مرحلے کے دوران 18,000 نئی ملازمتیں پیدا ہونے کی توقع ہے، جس سے ہر سال اونٹاریو کے نیوکلیئر شعبے میں 500 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری ہوگی۔اونٹاریو پاور جنریشن (OPG) منصوبے کی اکثریتی مالک اور آپریٹر رہے گی، جبکہ کینیڈا گروتھ فنڈ اور اونٹاریو حکومت کا بلڈنگ اونٹاریو فنڈ اقلیتی حصص دار ہوں گے۔
وزیر اعظم مارک کارنی نے منصوبے کی قومی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا”درلنگٹن نیو نیوکلیئر پروجیکٹ ہزاروں اعلیٰ تنخواہ دار ملازمتیں پیدا کرے گا اور اونٹاریو کے لاکھوں گھروں کو صاف توانائی فراہم کرے گا۔ یہ نسل در نسل سرمایہ کاری ہے جو پائیدار سلامتی، خوشحالی اور مواقع فراہم کرے گی۔ ہم بڑا تعمیر کر رہے ہیں تاکہ ایک مضبوط کینیڈا تعمیر ہو۔”
ایم پی سونیا سدھو نے مزید کہا”یہ منصوبہ اس مستقبل کی تعمیر کے بارے میں ہے جہاں کینیڈین عوام قابلِ استطاعت توانائی، اچھی ملازمتوں اور صاف ماحول پر بھروسہ کر سکیں۔”
درلنگٹن میں یہ سرمایہ کاری وفاقی حکومت کی اُس وسیع حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس کے تحت نئے قائم شدہ “میجر پراجیکٹس آفس” کے ذریعے بڑے قومی ترقیاتی منصوبوں کی رفتار تیز کی جا رہی ہے تاکہ بیوروکریسی میں کمی اور اہم انفراسٹرکچر کی ترقی میں تیزی لائی جا سکے۔
ایم پی سونیا سدھو نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ برامپٹن اور پیل ریجن کو کینیڈا کے صاف توانائی کے سفر میں مرکزی کردار دیا جائے گا تاکہ مقامی کارکن، کاروبار اور موجد اس تاریخی سرمایہ کاری سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکیں۔

