صدر ٹرمپ کی گیونگ جو آمد — اے پی ای سی اجلاس کے دوران شہر میں سیاسی گرما گرمی

گیونگ جو (اے پی) جنوبی کوریا کے تاریخی شہر گیونگ جو میں آج امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی آمد کے موقع پر سیاسی درجہ حرارت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ صدر ٹرمپ اے پی ای سی سمٹ میں شرکت کے لیے پہنچے ہیں جہاں دنیا بھر کے سربراہانِ مملکت اقتصادی تعاون، تجارتی پالیسیوں اور عالمی سلامتی کے موضوعات پر اہم مذاکرات کر رہے ہیں۔

شہر کے وسطی علاقے میں ایک جانب ٹرمپ کے حامیوں نے ان کا پرتپاک استقبال کیا، جبکہ دوسری جانب مخالف مظاہرین نے سڑکوں پر احتجاجی ریلیاں نکالیں۔ دونوں گروہوں کی سرگرمیوں کے دوران پولیس نے سخت حفاظتی اقدامات کیے ہوئے ہیں تاکہ امن و امان کی صورتحال برقرار رکھی جا سکے۔

“انٹرنیشنل پیپلز ایکشن کمیٹی اگینسٹ اے پی ای سی” کے رہنماؤں نے گوہوانگ پل کے قریب پریس کانفرنس کرتے ہوئے اس اجلاس کو “ٹرمپ کا ذاتی شو” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر اپنی تجارتی پالیسیوں کے ذریعے دنیا بھر کے عام شہریوں کی معاشی مشکلات میں اضافہ کر رہے ہیں۔

دوسری جانب، ٹرمپ کے حامیوں نے امریکی پرچم اٹھا کر ان کے حق میں نعرے لگائے اور امریکا-جنوبی کوریا اتحاد پر اعتماد کا اظہار کیا۔

پولیس حکام کے مطابق، شہر کے اہم مقامات پر اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے اور ٹریفک کے بہاؤ کو منظم رکھا جا سکے۔

ادھر اے پی ای سی اجلاس میں شریک عالمی رہنما تجارتی تعلقات، خطے کی سکیورٹی، اور اقتصادی تعاون کے نئے امکانات پر غور کر رہے ہیں۔

دنیا کی نظریں اس وقت جنوبی کوریا پر مرکوز ہیں، جہاں سے عالمی معیشت کے مستقبل سے متعلق اہم فیصلوں کی توقع کی جا رہی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں