میں ورک ویزے پر بھارت میں مقیم ہوں، 200 کروڑ بھتہ خوری کیس میں نورا فتحی کا عدالت میں بیان

نئی دہلی (بھارتی میڈیا) کینیڈین نژاد بالی ووڈ اداکارہ نورا فتحی نے 200 کروڑ بھارتی روپے کی بھتہ خوری کے مقدمے میں نئی دہلی کی عدالت میں بطور گواہ اپنا بیان ریکارڈ کرا دیا۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ وہ بھارت میں ٹی سیریز کے تحت جاری کیے گئے ملازمت کے ویزے پر مقیم ہیں اور 2014ء سے بھارتی فلموں میں کام کر رہی ہیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق نورا فتحی جمعہ 6 نومبر کو دہلی کی راؤز ایونیو عدالت میں ایڈیشنل سیشن جج گگندیپ سنگھ کے روبرو پیش ہوئیں۔ انہوں نے اپنے بیان میں بتایا کہ دسمبر 2020ء میں انہیں ایک فلاحی تقریب میں شرکت کے لیے چنئی بلایا گیا تھا، جس کا انتظام سکیش چندر شیکھر کی اہلیہ لینا پالوس نے کیا تھا۔

نورا فتحی نے عدالت کو بتایا کہ انہیں ایک تفریحی انتظامی کمپنی کے ذریعے تقریب میں فنکار کے طور پر مدعو کیا گیا تھا۔ وہ پہلی مرتبہ لینا پالوس سے اسی تقریب کے دوران ملی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ غیر ملکی فنکار ہونے کی وجہ سے ان کے پروگراموں کی بکنگ اور ادائیگی ان کی انتظامی کمپنی کے ذریعے ہوتی ہے۔

اداکارہ کے مطابق چنئی کی اس تقریب میں انہیں کوئی معاوضہ نہیں دیا گیا تھا، تاہم ان کے سفر، عملے، میک اپ اور بالوں کی تیاری کے اخراجات منتظمین نے برداشت کیے تھے۔ انہیں ایک رات کے لیے فائیو اسٹار ہوٹل میں بھی ٹھہرایا گیا تھا۔

نورا فتحی نے بتایا کہ تقریب کے لیے تیار ہوتے وقت ان کی ٹیم نے انہیں اطلاع دی کہ لینا پالوس اپنے خاندان کے افراد کے ساتھ ان سے ملاقات کرنا چاہتی ہیں۔ بعد ازاں لینا اپنے ساتھیوں اور دو ویڈیو گرافرز کے ہمراہ ان کے کمرے میں آئیں۔ ان کے پاس تحائف بھی تھے۔ لینا نے اپنا تعارف نیل آرٹسٹری سیلون کی مالک کے طور پر کرایا۔

اداکارہ کے بیان کے مطابق لینا نے انہیں بتایا کہ ان کے شوہر سکیش چندر شیکھر ان سے بات کرنا چاہتے ہیں، جس کے بعد فون پر ان کی سکیش سے گفتگو کرائی گئی۔ سکیش نے تقریب میں شرکت پر ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ اور ان کی اہلیہ ان کے مداح ہیں اور مستقبل میں بھی ان کے ساتھ مزید پروگرام کرنا چاہتے ہیں۔ اسی گفتگو کے دوران انہیں بی ایم ڈبلیو گاڑی تحفے میں دینے کی پیشکش بھی کی گئی۔

نورا فتحی نے بتایا کہ لینا پالوس نے انہیں گوچی کا بیگ اور آئی فون سمیت بعض تحائف بھی دیے تھے۔ سکیش نے گاڑی دینے کی پیشکش جاری رکھی اور بعد میں ان کے ایک رشتہ دار بوبی سے بھی رابطہ کیا۔ اداکارہ کے مطابق وہ سکیش کو اس تقریب سے پہلے ذاتی طور پر نہیں جانتی تھیں اور ان کا پہلا رابطہ لینا کے ذریعے ہوا تھا۔

یہ مقدمہ مبینہ جعل ساز سکیش چندر شیکھر سے متعلق ہے، جس پر الزام ہے کہ اس نے دہلی کی روہنی جیل میں رہتے ہوئے سرکاری افسر بن کر کاروباری شخصیات سے بھاری رقوم وصول کیں۔ پولیس کے مطابق اس نے فورٹس ہیلتھ کیئر کے سابق سربراہ شیویندر موہن سنگھ کی اہلیہ ادیتی سنگھ کو ان کے شوہر کی ضمانت دلوانے کا جھانسہ دے کر تقریباً 200 کروڑ بھارتی روپے وصول کیے تھے۔

دہلی پولیس کے اقتصادی جرائم ونگ نے اس معاملے کی تحقیقات کی تھیں، جبکہ سکیش، اس کی اہلیہ لینا پالوس اور دیگر افراد کے خلاف مہاراشٹر منظم جرائم کنٹرول قانون سمیت مختلف دفعات کے تحت کارروائی کی گئی۔ پولیس نے اپنی ضمنی فردِ جرم میں نورا فتحی کو استغاثہ کے گواہ کے طور پر شامل کیا ہے۔

نورا فتحی کی قانونی ٹیم پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ اداکارہ اس مقدمے میں ملزم نہیں بلکہ صرف گواہ ہیں اور ان پر کسی جرم کا الزام عائد نہیں کیا گیا۔ انہیں مقدمے میں اپنے علم اور سکیش و لینا سے ہونے والی ملاقاتوں کی تفصیلات فراہم کرنے کے لیے طلب کیا گیا ہے۔

عدالت نے نورا فتحی کو آئندہ 30 نومبر کو دوبارہ پیش ہونے کی ہدایت کی ہے۔ اس سے قبل ان کے وکلا نے پیشی سے استثنیٰ کی درخواست دی تھی، جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ گواہ کو عدالتی طلبی کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔