نئے صوبے فوری نہیں بن سکتے، آئینی طریقہ کار کے تحت فیصلہ ہوگا: رانا ثناء اللّٰہ

اسلام آباد(نامہ نگار) وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللّٰہ نے کہا ہے کہ صرف بات کرنے سے نئے صوبے نہیں بن سکتے، اس کیلئے آئینی طریقہ کار کے مطابق نیشنل کمیشن تشکیل دینا ہوگا جہاں فنڈز اور دیگر اہم معاملات پر فیصلے کیے جائیں گے۔

میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللّٰہ کا کہنا تھا کہ چھوٹے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کا طریقہ کار آئین میں موجود ہے اور اس معاملے پر پارلیمنٹ میں سنجیدہ بحث ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس سے متعلق حتمی فیصلہ پارٹی قیادت کرے گی۔ 2013 سے 2018 کے دوران پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت تھی، اسی دور میں دو صوبوں کے قیام کی قرارداد پیش کی گئی تھی، جسے انہوں نے خود اسمبلی میں پیش کیا تھا۔

رانا ثناء اللّٰہ کا کہنا تھا کہ نیشنل کمیشن میں قومی اسمبلی، سینیٹ اور صوبائی اسمبلیوں کی نمائندگی اور نشستوں سمیت مختلف آئینی و انتظامی امور پر مشاورت ہوگی۔ ان کے بقول نئے صوبوں کا معاملہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے، جس پر سنجیدہ اور جامع مشاورت ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ چھوٹے صوبوں کے قیام اور مضبوط بلدیاتی نظام، دونوں میں سے کوئی ایک یا دونوں ماڈلز اختیار کیے جا سکتے ہیں، تاہم اس بارے میں فیصلہ سیاسی جماعتوں نے کرنا ہے۔محسن نقوی کے حالیہ بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ جب کوئی شخص گفتگو کرتا ہے تو وہ اس کی ذاتی رائے ہوتی ہے، اب یہ محسن نقوی پر منحصر ہے کہ وہ اپنے بیان کی ذمہ داری کیسے لیتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے محسن نقوی کی تقریر سنی، لیکن انہیں سمجھ نہیں آئی کہ وہ کیا کہنا چاہتے تھے۔ ان کے بقول ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ ایک بڑی بات کو مختلف انداز میں بیان کرنا چاہتے تھے، مگر اپنی بات واضح نہ کر سکے۔رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ محسن نقوی کے مختلف بیانات آپس میں مطابقت نہیں رکھتے اور وزیراعظم کے 18 گھنٹے کام کرنے سے متعلق بیان کا مقصد بھی ان کی سمجھ سے بالاتر ہے۔