چیف آف ڈیفنس فورسز کی تقرری کا نوٹیفکیشن مقررہ وقت پر کر دیا جائیگا:خواجہ آصف

اسلام آباد(نامہ نگار)وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ چیف آف ڈیفنس فورسز کی تقرری سے متعلق نوٹیفکیشن مقررہ وقت پر جاری کر دیا جائیگا اور اس حوالے سے عملی اقدامات شروع ہو چکے ہیں۔

وزیر دفاع نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ سی ڈی ایف کے نوٹیفکیشن سے متعلق غیر ضروری اور غیر ذمہ دارانہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں، جبکہ وزیر اعظم شہباز شریف جلد وطن واپس آ رہے ہیں، جس کے بعد نوٹیفکیشن جاری کر دیا جائے گا۔

سی ڈی ایف کا نیا عہدہ 27ویں آئینی ترمیم کے تحت قائم کیا گیا ہے، جو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے خاتمے کے بعد آرمی چیف کے منصب کے ساتھ بطور دوہرا عہدہ یکجا ہو جائے گا۔ یہ عہدہ باضابطہ طور پر 27 نومبر کو قائم ہوا ہے۔

فوجی اور قانونی حلقوں میں توقع تھی کہ سی ڈی ایف کا نوٹیفکیشن فوری طور پر جاری کیا جائے گا، تاہم 29 نومبر — جو موجودہ آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی اصل تین سالہ مدت مکمل ہونے کی تاریخ تھی — گزرنے کے باوجود تقرری نہیں کی گئی۔

خواجہ آصف کے بیان سے اشارہ ملتا ہے کہ نوٹیفکیشن وزیر اعظم کی لندن سے واپسی پر جاری ہوگا۔ کچھ قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ نوٹیفکیشن نہ ہونے کی صورت میں آرمی چیف کی مدت ختم شدہ سمجھنے کا سوال پیدا ہوسکتا ہے، مگر 2024 کی آرمی ایکٹ ترمیم کے بعد سروس چیفس کی مدت پانچ سال تصور کی جاتی ہے، اور اس کیلئے کسی اضافی نوٹیفکیشن کی ضرورت نہیں۔

اگرچہ آرمی چیف کی مدتِ ملازمت قانوناً واضح ہے، مگر سی ڈی ایف کا عہدہ نیا ہے، اس لیے اس کیلئے باضابطہ نوٹیفکیشن لازمی قرار دیا جا رہا ہے۔ سیکیورٹی حکام کے مطابق حکومت کو فیلڈ مارشل منیر کو پانچ سال کیلئےسی ڈی ایف تعینات کرنے کا نیا نوٹیفکیشن جاری کرنا ہوگا۔

تاخیر کی وجہ حکومت کے اندر اختلافات بتائی جاتی ہے خصوصاً یہ سوال کہ آرمی چیف کی نئی پانچ سالہ مدت کا شمار نومبر 2022 سے ہوگا یا نومبر 2025 سے۔سی ڈی ایف کے اختیارات کے دائرہ کار خصوصاً پاک فضائیہ اور پاک بحریہ پر کمانڈ اتھارٹی بھی ایک حساس معاملہ ہے جس پر مشاورت جاری ہے۔

سی ڈی ایف کے ساتھ ایک اور اہم فیصلہ نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کے سربراہ کی تقرری ہے.یہ نیا چار ستارہ عہدہ جو جوہری کمانڈ اینڈ کنٹرول کی ذمہ داری سنبھالے گا۔ حکام کے مطابق یہ تقرری بھی سی ڈی ایف کے نوٹیفکیشن کے بعد ہی عمل میں آئے گی۔