کام کی جگہ پرخواتین کیلئےنامناسب باتیں ہراسانی ہیں: وفاقی محتسب

اسلام آباد (نامہ نگار) وفاقی محتسب برائے تحفظ ہراسانی فوزیہ وقار نے ایک انقلابی فیصلے میں قرار دیا ہے کہ بااختیار افراد کی جانب سے صنفی تعصب یا توہین آمیز بیانات دینا پاکستانی قوانین کے تحت کام کی جگہ پر ہراسانی کے مترادف ہے۔

یہ فیصلہ وفاقی اردو یونیورسٹی آف آرٹس، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے وائس چانسلر ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کیخلاف دیا گیا جنہیں خواتین فیکلٹی ارکان کے بارے میں بار بار حقیر اور صنفی امتیازی تبصرے کرنے پر قصوروار ٹھہرایا گیا۔

مقدمہ یونیورسٹی کے کمپیوٹر سائنس ڈیپارٹمنٹ کی خاتون لیکچرر فوزیہ اختر نے دائر کیا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا تھا کہ وائس چانسلر اور ڈیپارٹمنٹ سربراہ ڈاکٹر محمد شیراز انہیں ہراساں کر رہے ہیں۔

وفاقی محتسب نے فوزیہ اختر کے بعض الزامات کو ناکافی شواہد کی بنیاد پر مسترد کیا، تاہم وائس چانسلر کے صنفی تعصب والے بیانات کو درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے الفاظ توہین آمیز، حقیر اور جنسی تعصب پر مبنی ہیں جو خواتین کیلئے دشمنانہ ماحول پیدا کرتے ہیں۔

فوزیہ وقار نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ “خواتین کے پیشہ ورانہ رویے کو ہارمونل تبدیلیوں سے جوڑنا ایک صنفی امتیازی رویہ ہے جو ان کی عزت نفس کو مجروح کرتا ہے اور معاشرتی تعصب کو ہوا دیتا ہے۔”

فیصلے میں کہا گیا کہ تعلیمی اداروں کے سربراہان پر لازم ہے کہ وہ صنفی حساسیت کی اعلیٰ مثال قائم کریں کیونکہ ان کے الفاظ اور عمل تعلیمی ماحول کو تشکیل دیتے ہیں۔

وفاقی محتسب نے ڈاکٹر شنواری کے طرزِ عمل کو پروٹیکشن اگینسٹ ہراسمنٹ آف ویمن ایٹ دی ورک پلیس ایکٹ 2010 کے سیکشن 2(h)(i) اور 2(h)(ii) کے تحت جنسی طور پر توہین آمیز رویہ اور صنفی امتیازی سلوک قرار دیا۔

فیصلے کے مطابق وائس چانسلر پر سرزنش (Censure) کی سزا عائد کی گئی اور یونیورسٹی سنڈیکیٹ کو ہدایت دی گئی کہ وہ ان کے رویے کی سخت نگرانی کرے تاکہ مستقبل میں ایسی حرکات کی تکرار نہ ہو۔

مزید برآں، یونیورسٹی کو احکامات دیے گئے کہ وہ ادارے میں صنفی احترام کی ثقافت قائم کرے، ضابطہ اخلاق کو تمام کیمپسز میں نافذ کرے، اور عملے و طلبہ کیلئے آگاہی و حساسیت کی ورکشاپس منعقد کرے۔

فیصلے کے اختتام پر فوزیہ وقار نے لکھا کہ”اداروں کے سربراہان کیلئےصنفی تعصب کی جہالت کوئی عذر نہیں — ان سے مثالی قیادت کی توقع کی جاتی ہے۔”

یہ فیصلہ پاکستان کے تعلیمی اداروں میں خواتین کے تحفظ اور صنفی مساوات کے فروغ کیلئےایک سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے، جب کہ سوشل میڈیا پر صارفین نے وفاقی محتسب فوزیہ وقار کی تعریف کرتے ہوئے اس فیصلے کو ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا۔

اپنا تبصرہ لکھیں