اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں ڈکیتی کے دوران تاجر عامر اعوان کے قتل میں ملوث تمام ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے، گینگ کا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے۔
آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ واقعہ افسوسناک تھا تاہم 24 گھنٹے کے اندر ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ عامر اعوان کو ڈکیتی کے دوران قتل کیا گیا اور اس واردات میں منصور خان گینگ ملوث ہے، جو بلٹ پروف جیکٹ والا گینگ کے نام سے مشہور ہے۔
انہوں نے کہا کہ گینگ میں افغان شہری بھی شامل ہیں اور ملزمان کو کراچی سے خیبر کے درمیان مختلف مقامات سے گرفتار کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں وسائل کی کمی، فارنزک لیب اور سیف سٹی جیسے منصوبوں کی عدم تکمیل مسائل کا سبب تھے، تاہم اب ان پر کام جاری ہے۔
طلال چوہدری کے مطابق گزشتہ سال کی نسبت بڑے جرائم میں 63 فیصد کمی آئی ہے اور حکومت اسلام آباد کو پہلا اسمارٹ سٹی بنانے کیلئے اقدامات کر رہی ہے۔اس موقع پر آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی نے بتایا کہ کیس کی تحقیقات کے لیے 6 مختلف مقامات کی جیو فینسنگ کی گئی اور 137 کالز کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا، جبکہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی مدد بھی حاصل کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ 93 افراد سے پوچھ گچھ کی گئی اور چارسدہ، مردان، راولپنڈی اور اسلام آباد میں چھاپے مارے گئے، جہاں سے منصور خان گینگ کا سرغنہ گرفتار کیا گیا۔ ان کے مطابق گینگ میں دو افغان شہری بھی شامل ہیں ملزمان نے واردات کے دوران گارڈ سے کلاشنکوف اور موبائل فون بھی چھین لیے تھے۔پولیس حکام کے مطابق تاجر عامر اعوان کے قاتلوں کی گرفتاری ایک بڑا چیلنج تھی جسے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے حل کیا گیا۔

