واشنگٹن (ایجنسیاں) امریکا میں موجود افغان شہریوں کے دہشت گرد تنظیموں سے تعلقات کا انکشاف ہوا ہے۔ امریکی نیشنل انٹیلی جنس کی ڈائریکٹر تلسی گباڑ نے کہا ہے کہ کم از کم 2 ہزار افغان شہری دہشت گرد تنظیموں سے تعلق رکھتے ہیں یا مشتبہ ہیں۔
تلسی گباڑ کے مطابق دہشت گرد گروہ اب بھی امریکا پر حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، جس پر سیکیورٹی ادارے مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔
ڈائریکٹر نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کے مطابق امریکا آنے والے تقریباً 18 ہزار افغان شہریوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جو یا تو بدنامِ زمانہ ہیں یا مشتبہ دہشت گردوں کی فہرست میں شامل ہیں۔
دوسری جانب ایک امریکی جریدے نے طالبان کی جانب سے کی جانے والی جنگی مشقوں، طیاروں کی مرمت اور عسکری پریڈز کو گمراہ کن پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔ جریدے کے مطابق سیٹلائٹ تصاویر اور دیگر شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ طالبان کی جنگی تیاریوں میں کوئی ٹھوس حقیقت نہیں۔
امریکی جریدے میں مزید کہا گیا ہے کہ طالبان حکومت نے ناکارہ طیاروں اور بکتر بند گاڑیوں کو محض رنگ و روغن کرکے رن وے پر کھڑا کر رکھا ہے تاکہ اپنی عسکری طاقت کا تاثر دیا جا سکے۔

