کراچی (بیورورپورٹ)ماہرینِ امور خارجہ مشاہد حسین سید اور اعزاز چوہدری نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل میں رجیم چینج کے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ ایران سے ممکنہ معاہدہ اکیسویں صدی کا اہم واقعہ ثابت ہوسکتا ہے۔
’کیپٹل ٹاک‘ میں گفتگو کرتے ہوئے میزبان حامد میر نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے اعلان کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے جبکہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے ایک اور دور کی خبریں سامنے آ رہی ہیں، حالانکہ پاکستان پہلے ہی اس امکان کی نشاندہی کر چکا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ سابق امریکی حکام جان کیری اور ہیلری کلنٹن کے مطابق ایران پر حملے کا منصوبہ اسرائیل متعدد امریکی صدور کے سامنے پیش کر چکا تھا، تاہم کسی نے اسے قبول نہیں کیا، البتہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس مؤقف کی حمایت کی۔
چیئرمین پاک چائنہ انسٹیٹیوٹ مشاہد حسین سید نے کہا کہ 21 اپریل سے قبل جنگ بندی میں توسیع ممکن ہے اور اسلام آباد میں مذاکرات کا ایک اور دور بھی ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں بات چیت کا عمل جاری رہنا چاہیے اور کسی اضافی فریق کو شامل کرنا مناسب نہیں ہوگا، جبکہ امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات میں بھی دراڑ آ چکی ہے۔
مشاہد حسین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کے معاملات میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو امریکہ میں شریک صدر کی حیثیت رکھتے ہیں۔انہوں نے لبنان کی صورتحال پر کہا کہ امن کو تقسیم نہیں کیا جا سکتا اور یہ ممکن نہیں کہ ایک طرف لبنان میں مسلمانوں پر حملے جاری رہیں اور دوسری طرف خاموشی اختیار کی جائے۔
ماہرین کا کہنا تھا کہ ممکنہ معاہدے کی صورت میں ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان خود اس پر دستخط کر سکتے ہیں اور اگر معاہدہ طے پا گیا تو امریکی صدر اسلام آباد کا دورہ بھی کر سکتے ہیں۔

