امریکی صدر مذاکرات اور جنگ بندی کے اصولوں کے پابند نہیں: ابراہیم عزیزی

تہران (نمائندہ خصوصی)ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا ہے کہ امریکی صدر نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ وہ نہ مذاکرات کے اصولوں کے پابند ہیں اور نہ ہی جنگ بندی کے معاہدوں کا احترام کرتے ہیں۔

اپنے بیان میں ابراہیم عزیزی نے کہا کہ امریکا نے ایک مرتبہ پھر مذاکرات کے دوران ایران پر حملہ کیا، جبکہ جنگ بندی کی یہ غیر ذمہ دارانہ خلاف ورزی امریکا کے لیے پسپائی اور پشیمانی کا باعث بنے گی۔ انہوں نے کہا کہ الزام تراشی کا کھیل اب مزید نہیں چل سکتا۔

اس سے قبل ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر محسن رضائی نے کہا تھا کہ امریکا نے آبنائے ہرمز میں کشیدگی پیدا کرکے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مفاہمتی یادداشت کی کسی بھی خلاف ورزی کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

واضح رہے کہ سوئٹزرلینڈ میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت طے پانے کے بعد امریکا نے ایران پر حملہ کیا تھا۔

دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے ایک تجارتی جہاز پر حملے کے جواب میں فضائی کارروائی کی گئی۔

ادھر ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی افواج نے جزیرہ سرک پر حملہ کیا جسے ناکام بنا دیا گیا، جبکہ خطے میں امریکی فوج کے متعدد ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے کسی بھی نئے حملے کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔