امریکی صدر نے بی بی سی کے خلاف 10 ارب ڈالر ہرجانے کا مقدمہ دائر کر دیا

واشنگٹن/لندن (رائٹرز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے خلاف 10 ارب ڈالر ہرجانے کا مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق یہ مقدمہ فلوریڈا کی ایک وفاقی عدالت میں دائر کیا گیا ہے، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بی بی سی نے 6 جنوری 2021ء کو کیپیٹل ہِل پر ہونے والے حملے سے قبل صدر ٹرمپ کی تقریر کو ایڈٹ کر کے نشر کیا، جس کے نتیجے میں ناظرین کو گمراہ کیا گیا۔

مقدمے میں کہا گیا ہے کہ بی بی سی کے ایک دستاویزی پروگرام میں تقریر کے بعض حصوں میں ترمیم کر کے یہ تاثر دیا گیا کہ صدر ٹرمپ نے تشدد کی حوصلہ افزائی کی، جبکہ وہ اس الزام کی مسلسل تردید کرتے آئے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق پروگرام میں ’دارالحکومت کی جانب مارچ‘ اور ’فائٹ لائیک ہیل‘ جیسے جملے شامل کیے گئے، مگر وہ حصہ نکال دیا گیا جس میں انہوں نے پُرامن احتجاج پر زور دیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق یہ تنازع بی بی سی کے پینوراما پروگرام سے جڑا ہے جو 2024ء کے امریکی صدارتی انتخابات سے قبل برطانیہ میں نشر ہوا تھا، تاہم امریکا میں نشر نہیں کیا گیا۔ بعد ازاں بی بی سی نے اس پروگرام پر معذرت کرتے ہوئے کہا تھا کہ تقریر میں ترمیم کے باعث پرتشدد کارروائی کا غلط تاثر پیدا ہوا، اور اعلان کیا تھا کہ یہ پروگرام دوبارہ نشر نہیں کیا جائے گا۔

اس معاملے کے بعد بی بی سی کو ادارتی جانبداری کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ رپورٹس کے مطابق ادارے کے ڈائریکٹر جنرل ٹِم ڈیوی اور چیف ایگزیکٹو برائے نیوز ڈیبرہ ٹرنَس نے بھی استعفیٰ دے دیا تھا۔ بی بی سی کے خلاف دائر اس مقدمے کو میڈیا کی آزادی اور ادارتی ذمہ داریوں کے حوالے سے ایک اہم قانونی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔