اوٹاوا ( کینیڈین پارلیمانی رپورٹس، سی بی سی نیوز)نیو ڈیموکریٹک پارٹی نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایک ایسا بل پیش کرے گی جس کے تحت ارکانِ پارلیمنٹ کو پارٹی تبدیل کرنے سے پہلے ووٹروں کی منظوری لینا لازمی ہوگا۔
پارٹی کے پارلیمانی رہنما ڈان ڈیوس نے کہا ہے کہ ان کا مجوزہ قانون یہ شرط عائد کریگا کہ جو رکنِ پارلیمنٹ اپنی جماعت چھوڑ کر کسی دوسری جماعت میں شامل ہونا چاہے اسے یا تو اپنے حلقے میں ضمنی انتخاب لڑنا ہوگا یا اگلے عام انتخابات تک آزاد رکن کے طور پر بیٹھنا ہوگا۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وزیرِاعظم مارک کارنی کی جماعت کو حالیہ مہینوں میں پانچ ارکان کی “فلور کراسنگ” کے ذریعے سیاسی فائدہ حاصل ہوا ہے، جس سے ان کی پارلیمانی پوزیشن مضبوط ہوئی ہے۔
صرف چند ماہ کے دوران مختلف جماعتوں کے ارکان نے حکومتی بینچز جوائن کیے، جس پر اپوزیشن جماعتوں نے سخت تنقید کی ہے۔این ڈی پی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کا مؤقف ہے کہ منتخب نمائندوں کو پارٹی تبدیل کرنے سے پہلے اپنے حلقے کے ووٹروں سے دوبارہ رجوع کرنا چاہیے تاکہ عوامی مینڈیٹ کا احترام برقرار رہے۔
اس سے قبل بھی ڈان ڈیوس اس نوعیت کی قانون سازی کی کوشش کر چکے ہیں، تاہم ماضی میں ایسے بل منظور نہیں ہو سکے۔دوسری جانب قدامت پسند جماعت نے بھی اس بحث میں حصہ لیتے ہوئے مؤقف اپنایا ہے کہ ووٹروں کو ایسے ارکان کے خلاف ریکال پٹیشن کا حق ہونا چاہیے جو انتخاب کے بعد پارٹی تبدیل کریں۔

