انٹاریو(نمائندہ خصوصی)10000سے زیادہ فلائٹ اٹینڈنٹس تیسرے دن بھی ہڑتال پر ہیں حالانکہ کینیڈا انڈسٹریل ریلیشنز بورڈ (CIRB) نے اسے غیر قانونی قرار دے کر واپس کام پر آنے کا حکم دیا تھا .سی آئی آر بی نے دوپہر 2 بجے ET تک کام شروع کرنے کا حکم دیا لیکن یونین نے اس کی رابط نہ کرنے کا اعلان کیا ۔

ہڑتال سے 2500سے زائد پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں اور روزانہ تقریباً 130000مسافر متاثر ہو رہے ہیں ۔خاص طور پر پیر کو تقریباً 400 منسوخ پروازیں رپورٹ کی گئیں .
یونین اجرتوں میں اضافے، مہنگائی کے مطابق معاوضہ، اور زیر زمین کام (Ground Duties) کیلئےادائیگی کا مطالبہ کر رہی ہے — جیسا کہ boarding اور safety checks کے دوران کا وقت ۔
ایئر کینیڈا کی جانب سے چار سال میں کل معاوضے میں 38٪ اضافہ کا پیشکش کیا گیالیکن یونین اسے ناکافی قرار دے رہی ہے .سی ای او مائیک روزو نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ “یونین کی مطالبات تقریباً 40٪ سے زیادہ ہیں” اور انہوں نے مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنے کا اظہار کیا ۔

فیڈرل وزیر برائے ملازمتیں پیٹی ہاجو نے لیبر کوڈ سیکشن 107 کے تحت سی آئی آر بی سے دونوں فریقین کو لازمی ثالثی کے عمل میں شامل کرنے کا کہا ۔وزیر اعظم مارک کارنی نے کہا کہ یہ صورتحال “سینکڑوں ہزاروں کینیڈینز اور زائرین کو متاثر کر رہی ہے” اور جلد از جلد حل کی اپیل کی ۔
ایئر کینیڈا نے تیسرے سہ ماہی اور پورے سال 2025 کی مالی پیش بینی معطل کر دی ہے اور اس کے شیئرز تقریباً 3٪ گِرے ہیں ۔
CUPE کے صدر مارک ہینکاک نے کہا”اگر مجھے جیل جانا پڑا تو چلے جائیں اور اگر یونین کو جرمانہ کرنا پڑا تو ٹھیک ہے، ہم منصفانہ معاہدے کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں” .
مونٹریال کی لوکل 4091 صدر نتاشا سٹیا نے بھی کارکنان کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان کیا ۔CUPE نے عدالت اور حکومت کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہڑتال جاری رکھی ہے جس سے ہزاروں مسافر پھنس گئے ہیں اور ایئر کینیڈا کی مالی و عملی حالت متاثر ہو رہی ہے۔
تنازعہ کی نوعیت اجرتوں، Ground Duties کیلئےادائیگی اور محترمانہ معاوضے کے گرد گھوم رہی ہے اور دونوں فریقوں کے درمیان بنیادی فرق برقرار ہے۔حکومت ثالثی میں مداخلت کر چکی ہے تاہم کسی حل تک پہنچنے میں ابھی مزید وقت درکار ہے۔

