برطانیہ: اسلامی اجتماع کو نشانہ بنانے کی مبینہ سازش، 12 افراد گرفتار

لندن (رائٹرز/میٹروپولیٹن پولیس) برطانوی انسدادِ دہشت گردی پولیس نے انتہا پسند دائیں بازو سے منسلک مبینہ دہشت گردی کی تحقیقات کے سلسلے میں 12 افراد کو گرفتار کر لیا ہے، جن پر مشرقی انگلینڈ میں منعقد ہونے والے ایک اسلامی اجتماع کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کا شبہ ہے۔

پولیس کے مطابق آٹھ افراد کو دہشت گردی ایکٹ 2000 کے تحت، تین افراد کو قتل کی سازش کے شبے میں جبکہ ایک خاتون کو مبینہ طور پر ملزم کی معاونت کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ گرفتار افراد کی عمریں 27 سے 60 سال کے درمیان ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ گرفتاریاں اتوار اور پیر کو انگلینڈ کے مختلف علاقوں میں کی گئیں، جن میں سرے، گریٹر مانچسٹر، لندن، ایسیکس اور سفوک شامل ہیں، جبکہ متعدد مقامات پر تلاشی کا عمل بھی جاری ہے۔

پولیس کے مطابق انہیں سفوک کے علاقے شرب لینڈ ہال میں 9 سے 12 جولائی کے دوران منعقد ہونے والے اسلامی اجتماع کے حوالے سے ایک سنجیدہ ممکنہ خطرے کی اطلاع ملی تھی۔ اس اجتماع میں تقریباً 15 ہزار افراد شریک ہوئے تھے، جس کے باعث احتیاطی تدابیر کے طور پر منتظمین کو تقریب مقررہ وقت سے پہلے ختم کرنے کا مشورہ دیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کارروائی کے بعد عوام کو اس معاملے سے متعلق کسی وسیع تر خطرے کا سامنا نہیں ہے۔

برطانوی وزیرِ داخلہ شبانہ محمود نے واقعے پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ پولیس کی بروقت کارروائی نے ممکنہ طور پر قیمتی جانیں بچائیں۔ انہوں نے کہا کہ نفرت اور انتہا پسندی کے خلاف متحد ہو کر کھڑا ہونا ہوگا اور ایک ایسے برطانیہ کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا جو تمام برادریوں کے لیے کشادہ دل اور روادار ہو۔