بھارت: چلتی بس میں 16 سالہ طالبہ سے مبینہ اجتماعی زیادتی، ڈرائیور اور کنڈکٹر گرفتار

نئی دہلی (آئی اے این ایس)بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں 16 سالہ طالبہ کو چلتی سلیپر بس میں مبینہ اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کے الزام میں پولیس نے بس ڈرائیور اور کنڈکٹر کو گرفتار کرلیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق واقعہ 4 اگست کی رات کشمیری گیٹ کے علاقے میں پیش آیا۔ متاثرہ طالبہ اتر پردیش کی رہائشی اور گیارہویں جماعت کی طالبہ ہے، جو اہل خانہ سے ناراضی کے بعد گھر سے نکل کر نوئیڈا میں اپنے کزن کے پاس جا رہی تھی۔

پولیس کے مطابق شدید بارش اور اندھیرے کے باعث طالبہ غلط اسٹاپ پر اتر گئی۔ اسی دوران ایک خالی سلیپر بس وہاں سے گزری تو طالبہ نے مدد کے لیے بس روکی۔ ڈرائیور اور کنڈکٹر نے اسے بس میں بٹھا لیا اور بتایا کہ بس نوئیڈا جا رہی ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق بس چلنے کے کچھ دیر بعد کنڈکٹر نے طالبہ کو ہراساں کرنا شروع کردیا، بعد ازاں ڈرائیور اور کنڈکٹر نے مبینہ طور پر اسے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔پولیس کے مطابق ملزمان طالبہ کو رات گئے سڑک پر چھوڑ کر فرار ہوگئے، جس کے بعد خوف زدہ طالبہ نے کشمیری گیٹ پولیس سے رابطہ کرکے واقعے کی اطلاع دی۔

پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے بس ڈرائیور کلدیپ اور کنڈکٹر سندیپ کو ایک بس پارکنگ مقام سے گرفتار کرلیا۔ واردات میں استعمال ہونے والی سلیپر بس بھی قبضے میں لے لی گئی ہے، جس کا فرانزک معائنہ کیا جا رہا ہے۔

پولیس کے مطابق بس نے پری چوک سے طالبہ کو بٹھانے کے بعد کشمیری گیٹ تک تقریباً 47 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا تھا۔ سلیپر بس کے اندر پردے لگے ہونے کے باعث باہر سے گزرنے والے افراد کو مبینہ واردات کا علم نہیں ہوسکا۔