تہران( غیر ملکی میڈیا)ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور مذاکراتی وفد کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکا کیساتھ مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے تاہم اب بھی دونوں ممالک کے درمیان کافی فاصلہ باقی ہے۔
اپنے بیان میں قالیباف نے امریکی ناکہ بندی کے اعلان کو “بھونڈا اور جاہلانہ فیصلہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ قابلِ قبول نہیں کہ دیگر ممالک آبنائے ہرمز سے گزر سکیں مگر ایران کو روکا جائے۔
انہوں نے امریکا کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ امریکی مائن سویپرز اپنی موجودہ پوزیشن سے ایک انچ بھی آگے نہ بڑھیں، بصورتِ دیگر ایران جوابی کارروائی کرے گا، اور یہ بات امریکی وفد کو واضح طور پر بتا دی گئی ہے۔
قالیباف کا کہنا تھا کہ حالیہ جنگ کے دوران ایران نے دشمن کے 170 سے 180 ڈرونز مار گرائے جبکہ امریکا کا ایف-35 طیارہ بھی نشانہ بنایا گیا، جو ایک بڑی پیش رفت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران اپنی جنگی ٹیکنالوجی کی تفصیلات بیان نہیں کرنا چاہتا، تاہم دشمن کو اس کی صلاحیتوں کا اندازہ ہو چکا ہے۔

