خلاباز جوشوا کٹرک کا خلائی مشن، خلا میں کینیڈا کی صلاحیتوں کا اظہار

لانگیئل (نمائندہ خصوصی) کینیڈین خلاباز جوشوا کٹرک نے کہا ہے کہ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر ان کا مشن خلائی تحقیق میں کینیڈا کے کردار کو اجاگر کرنے اور مستقبل کی خلائی مہمات کیلئے نئی راہیں ہموار کرنے میں مدد دے رہا ہے۔

44 سالہ جوشوا کٹرک نے منگل کو کیوبیک کے شہر لانگیئل میں کینیڈین صحافیوں کے سوالات کے جواب بین الاقوامی خلائی اسٹیشن سے دیتے ہوئے کہا کہ خلا میں کینیڈا کی موجودگی اہم ہے۔ ان کے بقول، ایسے مشنز سے کینیڈا کو بہت سے فوائد حاصل ہوتے ہیں اور امید ہے کہ ملک مستقبل میں بھی ان سرگرمیوں کا حصہ بنا رہے گا۔

جوشوا کٹرک چھ ماہ کے مشن کے ابتدائی دو ہفتے مکمل کر چکے ہیں۔ اس دوران وہ سائنسی تجربات، تحقیق اور خلائی اسٹیشن کی اہم مرمت و دیکھ بھال کے کاموں میں حصہ لیں گے۔

وہ یکم اکتوبر کو امریکی خلائی ادارے ناسا کے مشن کریو 13 کے حصے کے طور پر خلائی اسٹیشن روانہ ہوئے تھے۔ یہ سفر ریکارڈ تیز ترین پروازوں میں شامل تھا اور خلائی اسٹیشن تک پہنچنے میں 8 گھنٹے سے بھی کم وقت لگا۔

سابق لڑاکا طیارہ پائلٹ جوشوا کٹرک نے روانگی کے تجربے کو سنسنی خیز اور حیرت انگیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ تربیت کے باوجود حقیقی پرواز کے تجربے‌کیلئےمکمل طور پر تیار ہونا ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ خلائی اسٹیشن پر قیام کے ابتدائی ہفتے ان کیلئے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں اور وہ خود کو خوش قسمت سمجھتے ہیں کہ انہیں یہ تجربہ حاصل ہو رہا ہے۔

چار رکنی عملے میں مشن کمانڈر جیسیکا واٹکنز، پائلٹ لیوک ڈیلینی اور روسی خلانورد سرگئی تیریتیاٹنیکوف بھی شامل ہیں۔

کٹرک نے بتایا کہ خلا سے زمین کو پہلی بار دیکھنے کے تجربے کو الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ ان کے مطابق، زمین خلا کی تاریکی میں ایک ہی دنیا کے طور پر دکھائی دیتی ہے، جہاں ممالک، اختلافات اور مسائل کی تقسیم نمایاں نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ اس منظر سے زمین کے تحفظ کی اہمیت کا احساس مزید گہرا ہوتا ہے۔ صحافیوں سے گفتگو کے دوران خلائی اسٹیشن کینیڈا کے اوپر سے گزر رہا تھا۔

البرٹا کے ایک مویشی فارم میں پرورش پانے والے جوشوا کٹرک اپنے خاندان کی تاریخ سے جڑی ایک یادگار بھی خلائی اسٹیشن لے گئے ہیں۔ یہ ایک جیبی گھڑی ہے جسے ان کے رشتہ دار چار نسلیں پہلے یوکرین سے کینیڈا لائے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گھڑی ان کی سونے کی جگہ کے قریب رکھی ہے اور اسے ہاتھ میں لے کر وہ گزشتہ ایک صدی کے دوران آنے والی تبدیلیوں اور مستقبل کے بارے میں سوچتے ہیں۔

خلائی مشن کے دوران کینیڈا کی قیادت میں ایسے مطالعات بھی کیے جا رہے ہیں جن میں یہ جائزہ لیا جائے گا کہ خلائی سفر اور کم کششِ ثقل انسانی صحت پر کیا اثرات مرتب کرتے ہیں۔ کٹرک نے صحافیوں سے گفتگو کے دوران ایک تحقیقی منصوبے کیلئے مخصوص لباس پہن رکھا تھا۔ اس منصوبے کا نام آسٹرو فِٹ ہے، جس کے تحت ان کی صحت کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ تحقیق کا مقصد ایسے طریقے تلاش کرنا ہے جن سے انسان طویل عرصے تک خلا میں قیام کر سکیں۔

کٹرک نے بتایا کہ کم کششِ ثقل والے ماحول میں کھانا کھانے، حرکت کرنے، سونے اور اوزار استعمال کرنے جیسے معمول کے کام ابتدا میں مشکل محسوس ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق، بعض بنیادی کام انہیں دوبارہ ایک بچے کی طرح سیکھنے پڑے۔

ان کا یہ مشن کینیڈا کیلئےخلائی تحقیق کے حوالے سے ایک اہم سال کا حصہ ہے۔ اپریل میں کینیڈین خلاباز جیریمی ہینسن نے آرٹیمس دوم مشن کے تحت چاند کے گرد پرواز کی تھی۔ اس دس روزہ مشن میں چار خلاباز شامل تھے اور یہ 50 سال سے زائد عرصے بعد انسانوں کی چاند کی جانب پہلی مہم تھی۔ اس دوران ہینسن اور ان کے ساتھی زمین سے انسانی تاریخ میں پہلے سے کہیں زیادہ فاصلے تک گئے۔

جوشوا کٹرک نے کہا کہ خلائی اسٹیشن پر ان کی موجودگی اس بات کی مثال ہے کہ کینیڈا جرات مندانہ اہداف طے کرکے اور خطرات مول لے کر کیا کچھ حاصل کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق، خلا میں کینیڈین خلاباز کی موجودگی سے ملکی صنعت، جامعات اور تجارتی شعبے کو بھی خلائی تحقیق میں حصہ لینے کی ترغیب ملتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اسی طرح جدت کو فروغ ملتا ہے، نئی ٹیکنالوجی تیار ہوتی ہے اور کینیڈا خلائی تحقیق میں اپنا کردار مزید بڑھا سکتا ہے۔