خیبر پختونخوا کی تعمیرِ نو: صرف وعدے نہیں، عملی نتائج چاہییں

خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد صوبائی ایپکس کمیٹی نے اپنے پہلے اجلاس میں انسدادِ دہشت گردی کیلئے بہتر رابطہ کاری اور عوامی خدمات میں بہتری کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ تاہم نئی انتظامیہ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ محض عہدے داروں کی تبدیلی یا مشاورتی کونسل کی تشکیل اداروں کی اصلاح کی ضمانت نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ عوامی مسائل کے حل کیلئے عملی منصوبہ کیا ہوگا، اس پر عمل درآمد کی ذمہ داری کس کی ہوگی اور نتائج کیسے جانچے جائیں گے؟ میڈیا بیانات اور نمائشی منصوبوں کے بجائے عوام کی بنیادی ضروریات اور دیرینہ مسائل کے حل کو ترجیح دینا ہوگی۔

خیبر پختونخوا کے عوام کیلئے حکومت کی کامیابی کا معیار نہایت سادہ ہے: کیا صوبے میں امن و امان قائم ہے؟ کیا شہری اپنے صوبے کے کسی بھی علاقے میں بے خوف سفر کر سکتے ہیں؟ کیا نوجوانوں کو روزگار میسر ہے؟ کیا بچوں کو معیاری تعلیم اور مریضوں کو علاج اور ادویات دستیاب ہیں؟ کیا سرکاری ملازمین کو بروقت تنخواہیں اور ریٹائرڈ ملازمین کو پنشن مل رہی ہے؟ کیا ترقیاتی منصوبے واقعی مکمل ہو کر عوام کو سہولتیں فراہم کر رہے ہیں؟ یہی وہ بنیادی سوالات ہیں جن کے عملی جوابات نئی انتظامیہ کی کامیابی یا ناکامی کا تعین کریں گے۔

گزشتہ تیرہ برس کی حکمرانی اور موجودہ انتظامیہ کی کارکردگی کو حقائق اور شواہد کی روشنی میں پرکھنا ضروری ہے۔ 2013 سے صوبے کی سیاست اور حکومت پر پاکستان تحریک انصاف کا غلبہ رہا ہے۔ اس طویل دور میں مالی بدانتظامی، اداروں کی کمزوری اور سیاسی محاذ آرائی کو حکومتی ترجیحات پر حاوی ہونے کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ ان معاملات کا غیر جانب دارانہ جائزہ ہونا چاہیے تاکہ کامیاب اقدامات اور ناکامیوں کی حقیقی وجوہات سامنے آ سکیں۔ تاہم ماضی کی خامیاں نئی انتظامیہ کیلئے مستقل عذر نہیں بن سکتیں۔ عوام کو الزام تراشی کے بجائے واضح ترجیحات اور عملی نتائج چاہییں۔

اس سلسلے میں ابتدا ہی سے ایک اہم حقیقت پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے کہ گورنر راج ایک غیر معمولی اور آئینی طور پر محدود مدت کا انتظام ہے۔ اس لیے موجودہ انتظامیہ سے صوبے کے تمام دیرینہ مسائل کے مکمل حل کی توقع رکھنا حقیقت پسندانہ نہیں ہوگا۔ تاہم اس محدود مدت کو محض روزمرہ انتظامی معاملات چلانے، نئی تقرریاں کرنے اور سابقہ حکومت کی ناکامیوں پر تنقید کرنے تک محدود رکھنا بھی مناسب نہیں۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ دستیاب وقت اور وسائل کو مؤثر انداز میں استعمال کرتے ہوئے صوبے میں امن، ترقی، خوشحالی اور بہتر حکمرانی کی مضبوط بنیاد رکھی جائے۔

صوبے کا سب سے سنگین مسئلہ دہشت گردی ہے، جس نے خیبر پختونخوا کو ناقابلِ تلافی جانی اور معاشی نقصان پہنچایا ہے۔ وفاقی حکومت نے ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کیلئےامن و امان کی خراب صورتحال کو بنیادی جواز قرار دیا ہے۔ عوام، پولیس اور سکیورٹی فورسز کی قربانیوں کا تقاضا ہے کہ اس مسئلے کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے بجائے سنجیدگی سے حل کیا جائے۔ پولیس اور انسدادِ دہشت گردی کے اداروں کی استعداد بڑھانا، خفیہ معلومات کے تبادلے کو مؤثر بنانا، دہشت گردی کی مالی معاونت روکنا اور متاثرہ علاقوں میں عوام کا اعتماد بحال کرنا ناگزیر ہے۔ ان تمام اقدامات میں قانون اور شہری حقوق کا احترام یقینی بنایا جائے۔

امن کے بغیر ترقی اور ترقی کے بغیر پائیدار امن کا حصول مشکل ہے۔ دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں نوجوانوں کے لیے فنی تربیت، روزگار، چھوٹے کاروبار اور مقامی صنعتوں کے فروغ کی منصوبہ بندی کی جائے۔ دیہی سڑکوں، آب پاشی، زرعی سہولتوں اور مقامی منڈیوں کی بحالی کو ترجیح دی جائے۔ اس عمل میں مقامی حکومتوں، بلدیاتی نمائندوں اور عوامی تنظیموں کو مؤثر کردار دیا جائے تاکہ ترقیاتی اقدامات مقامی ضروریات کے مطابق ہوں اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مدد مل سکے۔

امن و امان کے ساتھ تعلیم کا شعبہ بھی فوری اور خصوصی توجہ کا متقاضی ہے۔ گزشتہ برسوں میں بنیادی اور اعلیٰ تعلیم کے معیار، انتظامی معاملات اور مالی وسائل کے حوالے سے سنگین مسائل سامنے آئے ہیں۔ متعدد سرکاری جامعات کو مالی مشکلات کا سامنا ہے، جس کے باعث تعلیمی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئی ہیں۔ جامعہ پشاور جیسی تاریخی درسگاہ کی مالی صورتحال اس بحران کی ایک تشویشناک مثال ہے، جہاں ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی میں تاخیر کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔ جن جامعات کے ملازمین اپنے جائز واجبات کیلئے پریشان ہوں، وہاں معیاری تعلیم اور تحقیق کیسے فروغ پا سکتی ہے؟

اس نوعیت کے بحران راتوں رات پیدا نہیں ہوتے۔ محکمہ اعلیٰ تعلیم، محکمہ خزانہ، سرکاری جامعات اور آزاد آڈٹ ماہرین کو ترجیحی بنیادوں پر مالی واجبات، آمدنی کے ذرائع، اخراجات، قرضوں اور انتظامی فیصلوں کا جامع جائزہ لینا چاہیے۔ جائز بقایا جات کی ادائیگی کے لیے ہنگامی مالی امداد فراہم کی جائے، لیکن مستقل حل کے لیے شفاف بھرتیوں، مالی نظم و ضبط، انتظامی اصلاحات اور وسائل کے مؤثر استعمال کا پائیدار نظام بھی وضع کیا جائے۔ موجودہ انتظامیہ اس شعبے کی بحالی کیلئے ایسا قابلِ عمل منصوبہ تیار کر سکتی ہے جسے آئندہ حکومتیں بھی جاری رکھ سکیں۔

اسکولوں کی بہتری کیلئے ضلع وار تعلیمی نقشہ تیار کیا جائے، جس میں غیر فعال عمارتوں، اساتذہ کی کمی، پینے کے پانی، بجلی، بیت الخلا اور دیگر بنیادی سہولتوں کی صورتحال واضح ہو۔ بچیوں کی تعلیم میں حائل رکاوٹوں کی خصوصی نشاندہی کی جائے۔ اساتذہ کی حاضری، طلبہ کے داخلوں اور تعلیمی معیار کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے، جبکہ پسماندہ اور ضم شدہ اضلاع کو وسائل کی تقسیم میں ترجیح دی جائے۔

صحت کے شعبے کی صورتحال بھی سنجیدہ توجہ چاہتی ہے۔ ہسپتالوں میں عملے، ادویات، ضروری آلات اور بنیادی سہولتوں کی کمی کی شکایات عام ہیں۔ طبی عملے کے مطالبات پر ہونے والی ہڑتالوں سے بھی مریض متاثر ہوتے ہیں۔ تحریک انصاف صحت کارڈ کو اپنی نمایاں کامیابی قرار دیتی رہی ہے، تاہم اس پروگرام کے اخراجات، ادائیگیوں اور مبینہ بے ضابطگیوں کا بھی شفاف اور غیر جانب دارانہ آڈٹ ضروری ہے۔ کسی بھی تحقیق کے دوران مریضوں کو حاصل سہولتوں کا تسلسل متاثر نہیں ہونا چاہیے۔

محکمہ صحت اور ضلعی انتظامیہ کو فوری طور پر ہسپتالوں اور بنیادی مراکزِ صحت کی حالت کا جائزہ لے کر ادویات، طبی عملے اور ضروری آلات کی دستیابی یقینی بنانی چاہیے۔ خراب مشینوں کی مرمت، ایمرجنسی خدمات، زچہ و بچہ کی صحت اور دور دراز علاقوں میں طبی سہولتوں کی فراہمی کو خصوصی اہمیت دی جائے۔ اس کے ساتھ ڈاکٹروں اور محکمہ صحت کے دیگر ملازمین کو درپیش پیشہ ورانہ، انتظامی اور بنیادی سہولتوں سے متعلق مسائل بھی ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں، تاکہ وہ بہتر اور پُرسکون ماحول میں اپنے فرائض انجام دے سکیں اور مریضوں کو معیاری علاج اور بہتر نگہداشت میسر آ سکے۔ صحت کے نظام میں بہتری کیلئےایسا مستقل طریقہ کار وضع کیا جائے جس سے ان مسائل کی روک تھام ممکن ہو۔

روزگار، پینے کے صاف پانی، سڑکوں، صفائی، نکاسیٔ آب اور دیگر بنیادی سہولتوں کا بھی جائزہ لے کر دیرپا اصلاحات کا راستہ متعین کیا جائے۔ بالخصوص پسماندہ اور ضم شدہ اضلاع میں ترقیاتی ترجیحات مقامی آبادی کی حقیقی ضروریات کے مطابق طے ہونی چاہییں۔

شفاف احتساب اور مالی نظم و ضبط کے بغیر کوئی اصلاحاتی پروگرام کامیاب نہیں ہو سکتا۔ صوبے کو ایسا مؤثر نظام درکار ہے جس میں سرکاری ٹھیکوں، ترقیاتی منصوبوں، تقرریوں اور ادائیگیوں کی معلومات عوامی جانچ کے لیے دستیاب ہوں۔ سابقہ ادوار کے مبینہ مالی اسکینڈلز اور بدعنوانی کے الزامات کی آزادانہ تحقیقات ہونی چاہییں، لیکن کسی شخص کو محض سیاسی وابستگی کی بنیاد پر مجرم نہ ٹھہرایا جائے۔ جہاں جرم قانونی طور پر ثابت ہو، وہاں بلاامتیاز کارروائی ہو، اور جہاں الزامات ثابت نہ ہوں، وہاں سیاسی انتقام کا راستہ بند کیا جائے۔ یہی اصول موجودہ انتظامیہ پر بھی یکساں طور پر لاگو ہونا چاہیے۔ بدعنوانی کے خلاف عدم برداشت کی پالیسی کو محض نعرے کے بجائے عملی حقیقت بنایا جائے۔

محکمہ خزانہ، محکمہ منصوبہ بندی و ترقی، اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ اور متعلقہ آڈٹ ادارے بڑے ترقیاتی منصوبوں کی لاگت، اخراجات، موجودہ پیش رفت اور تاخیر کی وجوہات عوام کے سامنے پیش کریں۔ جہاں مالی بے ضابطگیوں کے شواہد ملیں، وہاں قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ تحقیقات اور احتساب کا نظام ایسا ہونا چاہیے کہ حکومتوں کی تبدیلی سے اس کا تسلسل متاثر نہ ہو۔

حکومتی کارکردگی کو جانچنے کیلئےایک عوامی کارکردگی پورٹل بھی قائم کیا جائے، جہاں تعلیم، صحت، مالیات، ترقیاتی منصوبوں اور شہری شکایات سے متعلق معلومات دستیاب ہوں۔ عوام جان سکیں کہ کتنے ملازمین کے واجبات ادا ہوئے، کتنے اسکول فعال ہوئے، ہسپتالوں میں سہولتیں کتنی بہتر ہوئیں، کتنے نامکمل منصوبوں پر کام دوبارہ شروع ہوا اور کتنی شکایات حل کی گئیں۔ آزاد اور معتبر اداروں سے ان معلومات کی تصدیق کا نظام بھی وضع کیا جائے تاکہ آئندہ منتخب حکومتوں کی کارکردگی کو بھی انہی معیارات پر جانچا جا سکے۔

خیبر پختونخوا کا سب سے قیمتی اثاثہ صرف اس کا بجٹ یا قدرتی وسائل نہیں بلکہ اس کے تجربہ کار اور باصلاحیت افراد بھی ہیں۔ آفتاب احمد خان شیرپاؤ، اسفندیار ولی خان اور مولانا فضل الرحمٰن جیسے تجربہ کار سیاسی رہنماؤں کے ساتھ دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی اعتماد میں لیا جائے اور صوبے کی بہتری کیلئےان کی رائے اور تجربے سے فائدہ اٹھایا جائے۔ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن صوبے کے بنیادی مسائل کا حل وسیع تر مشاورت اور باہمی تعاون کا متقاضی ہے۔

اسی طرح صوبے میں ممتاز ماہرینِ تعلیم، تجربہ کار ریٹائرڈ بیوروکریٹس، ڈاکٹرز، انجینئرز، ماہرینِ معاشیات، قانون دان، صنعت کار اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والی قابلِ احترام اور باصلاحیت شخصیات موجود ہیں۔ ان کی علمی، فنی اور انتظامی مہارت سے فائدہ اٹھایا جائے۔ ایسے افراد کو سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر اہلیت اور تجربے کی بنیاد پر شعبہ جاتی اصلاحاتی کمیٹیوں میں شامل کیا جائے۔

ان کمیٹیوں کے اختیارات، ذمہ داریاں اور مقاصد واضح ہوں۔ ماہرینِ تعلیم جامعات اور اسکولوں کی اصلاح، ریٹائرڈ انتظامی افسران ادارہ جاتی کارکردگی، طبی ماہرین صحت کی سہولتوں، جبکہ مالیاتی اور تکنیکی ماہرین وسائل کے بہتر استعمال اور ترقیاتی منصوبوں میں عملی کردار ادا کریں۔ خواتین، نوجوان پیشہ ور افراد اور دور افتادہ علاقوں کے نمائندوں کو بھی مناسب شمولیت دی جائے۔ محض ناموں کی فہرستیں اور رسمی اجلاس کافی نہیں؛ اصل مقصد ایسی قابلِ عمل سفارشات تیار کرنا ہے جن پر موجودہ اور آئندہ حکومتیں مؤثر انداز میں عمل کر سکیں۔

ان تمام تجاویز پر عمل درآمد کیلئے فوری نوعیت کے مسائل اور طویل مدتی اصلاحات میں واضح فرق ہونا چاہیے۔ تنخواہوں اور پنشن کے جائز بقایا جات، بنیادی طبی سہولتوں اور سرکاری اداروں کے فوری انتظامی مسائل کو ترجیح دی جائے۔ دوسری جانب تعلیم، صحت، احتساب، ترقیاتی منصوبوں اور معاشی بحالی کیلئے پائیدار اصلاحاتی منصوبے تیار کیے جائیں۔ ان میں ذمہ دار اداروں، مالی وسائل اور کارکردگی جانچنے کے معیارات کی وضاحت ہو، جبکہ تمام سفارشات اور پیش رفت کا ریکارڈ آئندہ منتخب حکومت کے حوالے کیا جائے تاکہ ضروری اصلاحات کا تسلسل برقرار رہے۔

یہ بھی ضروری ہے کہ عارضی انتظامیہ کے تمام اقدامات آئینی اور قانونی حدود کے اندر رہیں اور منتخب جمہوری نظام کی بحالی کے تقاضوں کو نظر انداز نہ کیا جائے۔ گورنر اور ان کی مشاورتی ٹیم کو سابقہ حکومت کی خامیوں اور ناکامیوں کا ریکارڈ ضرور مرتب کرنا چاہیے، مگر اپنی کامیابی کا ثبوت مسلسل تنقید اور تقریریں نہیں بلکہ عوام کو فراہم کی جانے والی سہولتیں ہوں گی۔ ماضی کی غلطیوں کو نظر انداز کرنا بھی درست نہیں اور انہیں موجودہ ذمہ داریوں سے بچنے کا بہانہ بنانا بھی قابلِ قبول نہیں۔

خیبر پختونخوا کے عوام نے طویل عرصے تک مشکلات برداشت کی ہیں اور امن کیلئے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ اب وہ مزید وعدوں اور سیاسی الزام تراشی کے بجائے ایسے عملی اقدامات کے منتظر ہیں جن سے استاد اطمینان سے پڑھا سکے، مریض کو بروقت علاج ملے، نوجوان کو باعزت روزگار میسر ہو، ملازم اور پنشنر کو اپنے جائز واجبات کے لیے احتجاج نہ کرنا پڑے اور ہر شہری اپنے اداروں پر اعتماد کر سکے۔

خیبر پختونخوا کے مسائل کئی دہائیوں پر محیط ہیں اور ان کا مکمل حل کسی مختصر انتظامی دور میں ممکن نہیں۔ تاہم دیانت دارانہ قیادت، شفاف احتساب، ماہرین کی رہنمائی اور درست ترجیحات کے ذریعے ان مسائل کے حل کی مضبوط بنیاد ضرور رکھی جا سکتی ہے۔ موجودہ انتظامیہ کی حقیقی کامیابی اس بات میں ہوگی کہ وہ اپنے محدود دور میں ایسے فعال ادارے، شفاف نظام اور قابلِ عمل منصوبے چھوڑ کر جائے جن پر آئندہ منتخب حکومتیں امن، ترقی اور خوشحالی کی عمارت تعمیر کر سکیں۔ یہی وعدوں سے نتائج تک کے سفر کا اصل مقصد ہونا چاہیے۔