یمن تنازع:پارلیمنٹ کو تھوڑی سی عزت تو دیں!

اب تو اس میں کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہ گئی کہ ہم سعودیہ یمن تنازعے میں باقاعدہ حصے دار ہیں یا نہیں،،، کیونکہ آج ہی کی تین خبریں ملاحظہ فرمائیں کہ ڈی جی آئی ایس پی آرکی جانب سے کہا گیا ہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا نفاذ، اس کے تمام اثرات دفاعی نوعیت کے ہوں گے، یہ کس طرح ہو گا؟ کون سا دستہ وہاں جائے گا؟ اسے کس انداز میں استعمال کیا جائے گا؟ اس کا فیصلہ آپریشنل کمانڈرز کریں گے۔بلکہ انہوں نے تصدیق بھی کر دی ہے کہ وہاں پاکستانی فوجی دستے موجود ہیں اور حرمین شریف کی حفاظت پر مامور ہیں،،، جبکہ دوسری جانب وزیرا عظم شہباز شریف کا بھی کہنا ہے کہ مکہ جوائنٹ ڈیفنس معاہدے کے تحت سعودی عرب کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب کے اپنے عوام، شہروں اور اہم تنصیبات کے دفاع کے حق کی پاکستان مکمل حمایت کرتا ہے۔اور پاکستان ہر خطرے کے مقابلے میں سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا۔جبکہ تیسری خبر کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ مکہ دفاعی معاہدے کی اسٹریٹجک، سیاسی اور دفاعی کمیٹی نے دفاعی تعاون کے لیے عملی اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب جبکہ اعلانیہ طور پر کہہ دیا گیا ہے کہ پاکستان کی افواج سعودی عرب میں ہوں گی اور سعودی عرب کے دفاع میں ہمہ تن گوش اپنی خدمات پیش کریں گی،،،

لیکن دوسری جانب ترکی جو مکہ معاہدے کا تیسرا رکن ہے نے فی الوقت اپنے فوجیوں کی تعیناتی سے انکار کیا ہے،،، یعنی ترک وزیر خارجہ کے مطابق ترکیہ نے دفاعی اور تکنیکی معاونت کی تیاری کی تھی، لیکن باقاعدہ فوجی دستوں کی تعیناتی کی تصدیق واضح نہیں تھی۔ ترکیہ کے وزیر خارجہ نے بھی کہا کہ ان کا ملک سعودی عرب کی مدد کرے گا، مگر یمن میں حملے کرنے کے لیے اپنی فوج نہیں بھیجے گا۔ کیوں کہ ترکیہ کی پارلیمنٹ سے دفاعی معاہدے کی باضابطہ منظوری کا عمل بھی زیرِ تکمیل بتایا گیا ہے،،،

لہٰذاسوال یہ ہے کہ جب ترکیہ نے پارلیمنٹ سے ابھی اجازت طلب کرنا ہے تو پاکستان کو اتنی عجلت میں فیصلہ کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ جبکہ معاہدہ ان کا ایک جیسا ہے،،، اور پھر مجھے ایک چیز کی سمجھ نہیں آتی کہ جب پارلیمنٹ آپ نے ربڑ سٹیمپ بنا لی ہے اور وہاں وہی کچھ ہو گا جو آپ نے چاہنا ہے تو پھر آپ اسے پارلیمنٹ میں کیوں نہیں لے کر جاتے،،، ؟ آپ پارلیمنٹ کی تھوڑی سی عزت تو برقرار رہنے دیں،، حالانکہ آپ نے ہر چیز اُسی پارلیمنٹ سے منظور کروائی ہے، ہر قانون وہیں سے منظور کروایا ہے،،،ہر ترمیم وہیں سے منظور کروائی ہے، تو اس مسئلے کو بھی اگر آپ پارلیمنٹ میں ڈسکس کر لیتے تو آپ کی بھی Safeسائیڈ ہو جاتی اور عوام کی بھی اس میں شمولیت ہوجاتی،،، لیکن آپ اس کے برعکس نہ جانے کیوں یہ تاثر دیتے ہیں کہ ہمارے علاوہ یہاں کسی کی کوئی اہمیت نہیں ہے،،، اورپھر یہ بات بھی سب کے علم میں ہے کہ پارلیمنٹ بھی آپ نے فارم 47کی مدد سے اپنی مرضی کی بنائی ہے،،، اور سب کو یہ بھی علم ہے کہ آپ طاقتور بن چکے ہیں،،، مگر آپ پراسس کو فالو کیوں نہیں کرتے؟ اس لیے میرے خیال اگر آپ پارلیمنٹ میں اس مسئلے کو لے جاتے تو یقینا پارلیمنٹ کی عزت بھی رہ جاتی،، ورنہ تو اب یہ ادارے محض ڈمی لگتے ہیں ۔

اور اگر واقعی ان اداروں سے پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے تو انہیں بند کردینا چاہیے،،، کیوں کہ یہ تو ویسے بھی اربوں روپے کا بوجھ ہے پارلیمنٹ پر ،،، اس ایوان کے اراکین کی تنخواہیں، پروٹوکولز، اسٹاف کے اخراجات، وزیروں کے شاہانہ اخراجات، ان کے کیمپ آفسز کے اخراجات، پھر ان کیلئےاربوں روپے کے فنڈز ،،، کیا یہ مراعات صرف ان لوگوں کو خاموشی سے تماشا دیکھنے کیلئے مل رہی ہیں؟ یعنی چاروں صوبوں کی اسمبلیاں، بلکہ جی بی اور کشمیر کی اسمبلیاں بھی ملا لیں،،، پھر قومی اسمبلی و سینیٹ اور پھر ان کی کمیٹیاں اور ان کے اخراجات ۔ پھر فیڈرل منسٹرز کے ساتھ مشیران کی ایک لمبی فہرست ،،، الغرض کھربوں روپے کے اضافی فنڈز ان کیلئےجاری ہوتے ہیں۔ اور پھر ان کی مراعات یہی ختم نہیں ہوتیں،،، بلکہ انہیں ملنے والے فری یونٹس بھی عام آدمی پر بوجھ بن رہے ہیں،،، اور سرکار ”ایڈجسٹمنٹ“ کیلئے غریب آدمی پر بوجھ بڑھا دیتی ہے اور کہتی ہے کہ حکومت کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا،،، یعنی اگر چارہ نہیں ہے تو بھائی آپ اپنے اضافی اخراجات بند کردیں،،، غیر ترقیاتی اخراجات جو کھربوں روپے سالانہ بنتے ہیں،،، آپ اُنہیں تو ختم نہیں کر رہے ،، لیکن عوام سے ہی ٹیکس لے کر اُنہیں پر مزید سختیاں کی جا رہی ہیں۔ کبھی لیوی بڑھا دی جاتی ہے، تو کبھی ٹیکس کی شرح بڑھا دی جاتی ہے، تو کبھی ٹول ٹیکس بڑھا دیا جاتا ہے۔ غریب آدمی تو گھر سے اس ڈر کے مارے نہیں نکلتا کہ نہ جانے کس جرم میں اُس پر ڈھائی تین ہزار روپے کے چالان ٹھونک دیے جائیں گے،،، اور اُتنے وہ شاید اگلے دو تین دن میں نہ کما سکے۔ اور آپ خود بتائیں کہ ایک مڈل کلاس طبقے میں اتنی سکت رہ گئی ہے کہ وہ اتنے یوٹیلیٹی بلز کے ساتھ جرمانے بھی بھرے؟

اور ان کا جو اصل کام ہے وہ یہ کرتے ہی نہیں ہیں،،، کہ کوئی بھی قومی ایشو پارلیمنٹ میں آئے گا اُسے یہاں ڈسکس کیا جائے گا،،، اور ایک مشترکہ رائے کے بعد کوئی فیصلہ کیا جائے گا،،، حالانکہ موجودہ حکمرانوں کے پچھلے دور یعنی مارچ 2015ءمیں سعودی عرب نے حوثیوں کے خلاف یمن میں فوجی کارروائی شروع کی۔ سعودی عرب نے پاکستان سے بھی فوجی مدد مانگی۔اس پر پاکستان کی پارلیمنٹ کا 6 سے 10 اپریل 2015 تک مشترکہ اجلاس ہوا۔بالآخر 10 اپریل 2015 کو متفقہ قرارداد منظور ہوئی۔پارلیمنٹ نے بنیادی طور پر کہا:پاکستان یمن کے تنازع میں غیر جانب دار رہے۔لیکن ساتھ ہی سعودی عرب کے ساتھ واضح یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔ قرارداد میں کہا گیا کہ اگر سعودی عرب کی علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی ہو یا حرمین شریفین کو خطرہ لاحق ہو تو پاکستان سعودی عرب اور اس کے عوام کے ساتھ کھڑا ہوگا۔قرارداد نے حکومت سے یہ بھی کہا کہ اقوام متحدہ اور او آئی سی کے ذریعے یمن میں فوری جنگ بندی کے لیے کوشش کی جائے۔اس کا مطلب کیا تھا؟یعنی 2015 کا فارمولا بہت واضح تھا:کہ یمن کی جنگ میں پاکستان فریق نہیں بنے گا، لیکن سعودی عرب پر براہِ راست حملہ یا حرمین شریفین کو خطرہ ہو تو پاکستان سعودی عرب کے دفاع میں کھڑا ہوگا۔یہی وجہ ہے کہ اس وقت پاکستان نے سعودی اتحاد میں اپنی فوجیں یمن بھیجنے سے گریز کیا۔ لیکن اب ہم تسلیم کر رہے ہیں کہ ہماری فوجیں حوثیوں کے خلاف لڑ رہی ہیں،،، چلیں! یہ بھی مان لیا کہ اب سارے فیصلے ہائی کمان نے کرنے ہیں،،، اور عوام کو یا عوامی نمائندوں کو کسی خاطر میں نہیں لانا تو ٹھیک ہے،،، آپ کی مرضی ہے،،،جو جی میں آئے کرتے رہیں،،، بقول شاعر
میری بربادی کا سامان بہر طور کریں
جی میں جو آئی ہے شہ زوروں کی شہ زور کریں
لیکن آپ عام آدمی کو ریلیف تو دیں،،، اُسے سانس تو آنے دیں،،،اُسے اس قابل تو چھوڑیں کہ وہ اس ملک میں ایک بہتر زندگی گزار سکے،،، کیا آپ نے اُس دیہاڑی دار مزدور کے گھر کے حالات دیکھے ہیں، جس کے پاس ایک وقت کا کھانا ہوتا تو دوسرے وقت کے لیے وہ پیٹ پر پتھر باندھ کر سو جاتا ہے،،، اگر وہ مکان کا کرایہ ادا کرتا ہے تو اُس کے پاس بجلی کے بل کے پیسے نہیں ہوتے اور اگر وہ بل ادا کرتا ہے تو اُس کے پاس کرایہ ادا کرنے کے پیسے نہیں ہوتے،،،

بہرحال اتنے بڑے ایشو میں اپنے آپ کو پھنسانے کے بجائے اسے پارلیمنٹ میں لے کر آئیں،،، کیا ہمارے ایوان صرف کالے قوانین پاس کروانے کے لیے رہ گئے ہیں؟ میرے خیال میں تو وہ بھی ایک ایگزیکٹو آرڈر سے پاس کروا لیا کریں،،، جو بھی ترامیم کرنی ہیں،،، سب کچھ آپ کے ہاتھ میں ہے،،، ایک آرڈر سے سب کچھ پاس کروائیں،،، اللہ اللہ خیر صلہ ۔ ایویں ان ایوانوں کو عوام اور دنیا کے سامنے تقدس پامال کیا جارہا ہے،،، یعنی اس سے ہم آنے والی نسلوں کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں کہ سب کچھ فیصلہ کرنے والے ہی ہوتے ہیں،،، باقی سب ہیر پھیر ہے،،، اور پھر لگے ہاتھ عدلیہ پر بھی پابندی لگادیں کہ وہ بھی سیاسی معاملات میں نہ پڑے ۔

بہرحال یہ بات سمجھی جائے کہ یہاں پر ایران اور یمن کے چاہنے والوں کی تعداد بھی اتنی ہی ہے جتنی ان کے مخالفین کی ہے،،، تو پھر کیسے ممکن ہے کہ ہم یمن کے محاذ میں کسی بھی طرح حصے دار بن جائیں اور بھارت، افغانستان، کے بعد یمن کے ساتھ بھی تعلقات ”نازک“ موڑ پر لے آئیں اور خدانخواستہ وہ بھی پاکستان پر حملے کرنے کو شرعی طور پر جائز قرار دے دیں اور ہم اپنے ملک کو ایک نئے امتحان سے بالکل اُسی طرح گزاریں جس طرح جنرل ضیاءالحق نے گزارا تھا۔

بہرکیف اس موقع پر مکہ دفاعی معاہدے پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں کہ معاہدہ کہاں گیا اور اُس کی شرائط کیا ہیں۔ جب معاہدے پر دستخط ہوئے تھے تو بڑا چرچا تھا کہ ایک بہت بڑا کارنامہ انجام پایا ہے۔ اب جب برادر ملک دباﺅ میں ہے تو معاہدے کے خدوخال کسی واضح شکل میں نظر نہیں آ رہے۔ لہٰذا اگر آپ چاہتے ہیں کہ ہر چیز واضح ہو تو براہ کرم ہر مسئلہ کو پارلیمنٹ میں ڈسکس کیا کریں تاکہ دنیا بھر میں ہمارا بطور قوم تشخص برقرار رہے!

آخر میں سوال یہی ہے کہ کیا پارلیمنٹ کو قومی سلامتی کے فیصلوں میں اپنا آئینی اور جمہوری کردار ادا کرنے کا موقع دیا جائے گا؟ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی دوستی اپنی جگہ قائم رہ سکتی ہے، لیکن اس دوستی کے نام پر قومی فیصلوں کی وضاحت اور پارلیمانی مشاورت کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ مضبوط ریاست وہ نہیں جو صرف بڑے فیصلے کرے، بلکہ وہ ہے جو اپنے فیصلوں کی بنیاد واضح کرے، ان کے نتائج کی ذمہ داری قبول کرے اور قومی معاملات میں عوام کے منتخب نمائندوں کو شریک رکھے۔