اوٹاوا (نمائندہ خصوصی) کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے ملک بھر میں 10 لاکھ گھروں میں توانائی کی بچت کے اقدامات کیلئے 2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت خاندانوں کو گھروں کے گرم رکھنے کے اخراجات کم کرنے، توانائی کی بچت اور ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں مدد فراہم کی جائے گی۔
برامپٹن ساؤتھ سے رکنِ پارلیمنٹ سونیا سدھو نے کہا کہ گھریلو اخراجات میں اضافے کے باعث خاندانوں کو مشکلات کا سامنا ہے، خصوصاً سردیوں میں گھروں کو گرم رکھنے کے اخراجات بڑھ رہے ہیں۔ وفاقی سرمایہ کاری سے شہریوں کو بجلی کے بل کم کرنے، توانائی کی بچت اور جدید و قابلِ اعتماد نظامِ حرارت اختیار کرنے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ جدید برقی ہیٹ پمپس کی تنصیب اور عمارتوں میں توانائی کی بچت کے اقدامات سے گھریلو اخراجات کم کرنے کے ساتھ ماحولیاتی آلودگی میں بھی کمی لائی جا سکتی ہے۔
منصوبے کے تحت قومی ہیٹ پمپ رعایتی پروگرام شروع کیا جائے گا۔ اس پروگرام کے تحت درمیانی آمدن سے کم آمدن رکھنے والے اہل گھرانوں کو ہیٹ پمپ کی خریداری اور تنصیب کیلئے 10 ہزار ڈالر تک مالی معاونت فراہم کی جائے گی، جبکہ دیگر اہل گھرانے 2 ہزار ڈالر کی معاونت حاصل کر سکیں گے۔ وفاقی حکومت کی رعایتیں صوبائی حکومتوں کے موجودہ پروگراموں کے ساتھ بھی حاصل کی جا سکیں گی، جس سے خاندانوں کے اخراجات مزید کم ہوں گے۔
بیان کے مطابق درخواستوں پر تیزی سے کارروائی کی جائے گی اور منظوری 24 گھنٹوں کے اندر دینے کی توقع ہے، تاکہ خراب ہونے والے نظامِ حرارت کو فوری تبدیل کرنے والے خاندانوں کو سہولت مل سکے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ تیل سے چلنے والے نظامِ حرارت یا برقی بیس بورڈ ہیٹر استعمال کرنے والے گھرانے ہیٹ پمپ نصب کرکے توانائی کے اخراجات میں سالانہ اوسطاً 1400 ڈالر بچا سکتے ہیں۔ یہ نظام سال بھر گھروں کو گرم رکھنے اور ٹھنڈا کرنے کی سہولت بھی فراہم کرتا ہے۔
اس منصوبے میں اپارٹمنٹس اور کثیر رہائشی عمارتوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ وفاقی شراکت داروں کے تعاون سے آئندہ 8 برسوں میں 2 لاکھ 80 ہزار کرائے کے گھروں اور اپارٹمنٹ یونٹوں میں توانائی کی بچت کیلئے بہتری لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ ان اقدامات سے توانائی کے اخراجات کم کرنے اور زیادہ پائیدار رہائش کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔
وفاقی حکومت کے اندازے کے مطابق اس سرمایہ کاری سے ملک بھر میں 10 لاکھ گھروں میں توانائی کی بچت کے اقدامات کیے جا سکیں گے اور ماحولیاتی آلودگی میں 25 میگاٹن سے زیادہ کمی آئے گی۔ یہ منصوبہ کینیڈا میں صاف، قابلِ اعتماد اور سستی توانائی کے نظام کو فروغ دینے اور خاندانوں کے اخراجات کم کرنے کی وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔

