دوسرا دور: ایران کا امریکا سے مذاکرات سے انکار

تہران ( ارنا، ایرانی حکام، امریکی میڈیا)ایران نے امریکا کے ساتھ دوسرے دور کے مذاکرات سے انکار کر دیا ہے۔ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق تہران نے اسلام آباد میں متوقع امن مذاکرات میں شرکت کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی رپورٹس درست نہیں اور یہ امریکی میڈیا کا پروپیگنڈا ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ واشنگٹن کے حد سے زیادہ مطالبات، غیر حقیقت پسندانہ توقعات، موقف میں بار بار تبدیلی اور جاری بحری ناکہ بندی ایسے عوامل ہیں جن کی وجہ سے مذاکرات ممکن نہیں۔ایران نے اس بات کی بھی تردید کی کہ اس نے امریکا کے ساتھ کسی نئے مذاکراتی دور پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

دوسری جانب ایران کے اول نائب صدر رضا محمد عارف نے کہا ہے کہ ایران اسی وقت مذاکرات کرے گا جب دشمن دوبارہ حملہ نہ کرنے کی ضمانت دے اور ایران کے بین الاقوامی حقوق کو تسلیم کرے۔انہوں نے سوشل میڈیا پر بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد ایران کے مخالفین اب خود مذاکرات کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ان کے نمائندے اسلام آباد جا رہے ہیں اور مذاکرات کے لیے موجود ہوں گے، جبکہ انہوں نے ایران پر سیزفائر کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا تھا۔