برازیلیا/نیویارک (رائٹرز، اے ایف پی، بی بی سی، الجزیرہ)برازیل کے صدر لوئز اناسیو لولا دا سلوا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان کو ’’لارڈز آف وار‘‘ قرار دیتے ہوئے ان پر سخت تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ وہ غریب ممالک کے خلاف جنگیں مسلط کرنے کے بجائے اپنا رویہ تبدیل کریں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق برازیلی صدر نے اپنے ایک خطاب میں کہا کہ سلامتی کونسل کے مستقل ارکان خود کو ’’شہنشاہ‘‘ سمجھتے ہیں اور عالمی امن کے قیام کے بجائے طاقت کے استعمال کو ترجیح دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دنیا کو ایسے عالمی نظام کی ضرورت ہے جہاں طاقتور ممالک کمزور ریاستوں پر اپنی مرضی مسلط نہ کریں بلکہ انصاف اور برابری کی بنیاد پر فیصلے کیے جائیں۔
لولا دا سلوا نے زور دیا کہ اقوام متحدہ کے نظام میں اصلاحات ناگزیر ہو چکی ہیں، خاص طور پر سلامتی کونسل کی ساخت میں تبدیلی وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ ترقی پذیر ممالک کو بھی مؤثر نمائندگی مل سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں جنگوں اور تنازعات کے بجائے سفارتکاری اور مذاکرات کو فروغ دینا ہوگا، ورنہ عالمی امن کو مزید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان میں امریکا، روس، چین، برطانیہ اور فرانس شامل ہیں، جنہیں ویٹو پاور حاصل ہے اور وہ عالمی فیصلوں پر نمایاں اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔

