نیویارک (کینیڈین حکومت، ایسوسی ایٹڈ پریس)کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی نظام گہری بے یقینی اور انتشار کے دور میں داخل ہوچکا ہے، ایسے میں کثیرالجہتی تعاون اور نئی شراکت داریوں کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
انیتا آنند نے کہا کہ عالمی نظام میں آنے والی تبدیلی محض منتقلی نہیں بلکہ ایک بڑی ٹوٹ پھوٹ کی صورت اختیار کرچکی ہے، بڑی طاقتیں اقتصادی تعاون سے پیچھے ہٹ رہی ہیں جبکہ ریاستی خودمختاری، جو اقوام متحدہ کے منشور کا بنیادی اصول ہے، کو بھی نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کینیڈا کسی ایک شراکت دار پر حد سے زیادہ انحصار کم کرکے اپنی اسٹریٹجک خودمختاری مضبوط کرے گا اور اقتصادی و سفارتی تعلقات کو مختلف خطوں تک وسعت دے گا۔
کینیڈین وزیر خارجہ نے کہا کہ کینیڈا مشترکہ عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے چھوٹی ریاستوں، درمیانی طاقتوں اور بڑی طاقتوں پر مشتمل مختلف اتحاد تشکیل دے گا، جن میں یوکرین کی حمایت اور قطب شمالی کی سلامتی سمیت دیگر شعبے شامل ہوں گے۔
انیتا آنند کے مطابق کینیڈا اور اس کے شراکت داروں نے کثیرالجہتی نظام کی حمایت اور اقوام متحدہ سمیت عالمی اداروں میں اصلاحات کے لیے ’’کثیرالجہتی شراکت دار‘‘ اقدام بھی شروع کیا ہے، جس کا مقصد عالمی اداروں کو زیادہ نمائندہ، مؤثر اور قابلِ اعتماد بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کینیڈا ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی، اہم معدنیات، دفاعی پیداوار اور توانائی کے شعبوں میں اپنی صلاحیتیں مضبوط کرتے ہوئے ’’اقدار پر مبنی حقیقت پسندی‘‘ اختیار کرے گا۔
انیتا آنند نے کہا کہ کینیڈا تجارتی تعلقات میں تنوع پیدا کرنے کے لیے بحرالکاہل کے خطے، خلیج، لاطینی امریکا، افریقا اور یورپ کے ساتھ تعلقات مضبوط کرے گا جبکہ بھارت اور چین کے ساتھ بھی شراکت داری کو نئے سرے سے آگے بڑھایا جائے گا۔
یوکرین کے حوالے سے کینیڈین وزیر خارجہ نے کہا کہ کینیڈا یوکرین کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر مبنی جامع، منصفانہ اور پائیدار امن کی حمایت جاری رکھے گا۔انہوں نے قطب شمالی کو کینیڈا کی شناخت اور سلامتی کا مرکزی حصہ قرار دیتے ہوئے مقامی باشندوں اور علاقائی شراکت داروں کے ساتھ تعاون کو اہم قرار دیا۔
ایران کے بارے میں انیتا آنند نے کہا کہ کینیڈا ایران کو خطے میں امن و سلامتی کے لیے بنیادی خطرہ سمجھتا ہے، تہران سے منسوب حملوں کی مذمت کرتا ہے اور ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے مؤقف پر قائم ہے۔
اسرائیل اور فلسطین کے تنازع پر کینیڈین وزیر خارجہ نے کہا کہ حقِ خودارادیت دونوں اقوام کا حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے وجود کا حق بحث طلب نہیں جبکہ فلسطینی عوام کا اپنی آزاد ریاست میں حقِ خودارادیت بھی بحث طلب نہیں۔
انیتا آنند نے کہا کہ کینیڈا مذاکرات کے ذریعے دو ریاستی حل کے عزم پر قائم ہے، تاہم حماس کو فلسطین کی حکمرانی میں کوئی کردار نہیں ملنا چاہیے۔ انہوں نے مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کو بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی قرار دیا۔کینیڈین وزیر خارجہ نے ہیٹی میں سلامتی اور انتخابات، سوڈان اور غزہ سمیت مختلف بحرانوں میں انسانی امداد، ذمہ دار مصنوعی ذہانت اور بحری سلامتی کے شعبوں میں عالمی تعاون کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے کہا کہ بدلتے ہوئے عالمی حالات کے سامنے کینیڈا ماضی کی یاد یا مایوسی کا راستہ اختیار نہیں کرے گا بلکہ اعتماد اور مضبوطی کے ساتھ آگے بڑھے گا۔انیتا آنند نے کہا کہ کینیڈا طویل مدتی شراکت داری، بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے اصولوں سے وابستہ رہے گا اور عالمی برادری کو اس شراکت داری میں شامل ہونے کی دعوت دیتا ہے۔

