اسلام آباد (ایجنسیاں) پاکستان سمیت 8 ملکوں نے برطانیہ کی جانب سے غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے درآمدات پر پابندی کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔مشترکہ بیان میں پاکستان، ترکیہ، مصر، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے کہا کہ غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے اشیا کی درآمد پر پابندی عالمی برادری کو ایسے اقدامات کی جانب متحرک کرے گی۔
مشترکہ بیان میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے منسلک خدمات پر پابندی کے برطانوی فیصلے کا بھی خیرمقدم کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا گیا کہ اسرائیلی غیر قانونی بستیوں کی سرگرمیوں کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔
وزرائے خارجہ نے کہا کہ تمام ممالک اسرائیل کے غیر قانونی قبضے سے پیدا ہونے والی صورتحال کو قانونی حیثیت تسلیم نہ کریں، جبکہ اسرائیل غیر قانونی بستیوں سے متعلق اپنے تمام اقدامات واپس لے۔مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ غزہ مقبوضہ فلسطینی سرزمین کا لازمی حصہ ہے اور غزہ تنازع ختم کرنے کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جامع منصوبے پر مکمل اور فوری عمل درآمد کیا جائے۔بیان میں کہا گیا کہ غزہ میں سلامتی، استحکام اور انسانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات ضروری ہیں۔مشترکہ بیان کے مطابق منصفانہ، پائیدار اور جامع امن کا واحد قابل عمل راستہ دو ریاستی حل کا نفاذ ہے۔

