لاہور(نامہ نگار)لاہور میں دو غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا اور جنسی زیادتی کے مقدمے میں نئی تصویر سامنے آنے کے بعد پولیس کے ابتدائی مؤقف پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق سامنے آنے والی تصویر اور متاثرہ غیر ملکی خاتون کے عدالتی بیان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں خواتین مبینہ طور پر ملزمان کے قبضے سے فرار ہونے کے بعد ایک دکان میں جا کر پناہ لینے میں کامیاب ہوئیں۔
رپورٹ کے مطابق دکان کے قریب موجود ایک ٹریفک وارڈن نے دونوں خواتین کو محفوظ مقام پر منتقل کیا اور پولیس کو اطلاع دی، جس کے بعد پولیس نے انہیں اپنی تحویل میں لے لیا۔
سامنے آنے والی تصویر میں ٹریفک وارڈن، پولیس اہلکار اور دونوں غیر ملکی خواتین کو دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ خواتین خوف زدہ حالت میں کھڑی نظر آتی ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پولیس نے خواتین کے سامنے آنے سے قبل انہیں تلاش کرنے کی کوشش کی تھی، تاہم بعد ازاں ان کے ملنے کے بعد واقعے سے متعلق ابتدائی معلومات جاری کی گئیں۔
نوٹ: مقدمے کی تفتیش جاری ہے۔ خبر میں بیان کیے گئے نکات دستیاب تصاویر، متاثرہ خاتون کے بیان اور میڈیا رپورٹس پر مبنی ہیں، جبکہ حتمی حقائق کا تعین عدالت اور تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہوگا۔

