ورلڈکپ میں پرفامنس توقع کے مطابق نہیں تھی، پلیئنگ الیون کا حق کپتان اور کوچ کو ہونا چاہیے
وہی بتا سکتے ہیں کہ کون کیوں نہیں کھیلا، بابر اور فخر کی فٹنس بارے معلوم کرینگے:سلیکٹرز کی پریس کانفرنس
چئیرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی سے سلیکشن کمیٹی کے ممبران نے ملاقات کی ۔چئیرمین پی سی بی محسن نقوی نےسلیکشن کمیٹی کو مکمل فری ہینڈ کا استعمال کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے کہا کہ بغیر کسی دباو کے ایمانداری سے فرائض سرانجام دیں اورکسی کی تنقید برائے تنقید کی پرواہ نہ کریں میری پوری سپورٹ آپ کے ساتھ ہے۔ مصباح الحق۔ سرفراز احمد۔ اسد شفیق اور عاقب جاوید نے بھرپور اعتماد کے اظہار پر چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کا شکریہ ادا کیا۔ بعدازاں پاکستان کرکٹ ٹیم کی سلیکشن کمیٹی کے رکن عاقب جاوید کا کہنا تھا کہ بابر اعظم انجرڈ ہیں اس لیے وہ بنگلا دیش سیریز میں شامل نہیں جبکہ فخر زمان بھی انجرڈ ہیں، تحقیقات کرائیں گے کہ کیسے دو اہم کھلاڑی ورلڈ کپ کے فوری بعد انجرڈ ہو گئے۔ قذافی سٹیڈیم میں قومی سلیکشن کمیٹی کی پریس کانفرنس کے دوران عاقب جاوید کا کہنا تھا کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں ٹیم سے بڑی امیدیں تھیں مگر ہم اس طرح پرفارم نہیں کرسکےجیسا کرنا چاہیے تھا، بھارت کے ساتھ رزلٹ اب تک 8 صفر ہے اس میں سب شامل ہیں مگر بھارت کا میچ الگ کر دیں باقی آپ ایک میچ ہارے ہیں۔ سلیکشن کمیٹی کے رکن نے کہا کہ ایک میچ بارش کی نذر ہو گیا اور سیمی فائنل میں باہر ہو جاتے ہیں، اس پر سب کہنا شروع ہو جاتے ہیں کہ سب ختم ہو گیا یہ کر دیں وہ کر دیں۔

عاقب جاوید نے کہا کہ بابر اعظم انجرڈ ہیں اس لیے وہ بنگلا دیش کے خلاف سیریز میں شامل نہیں جبکہ فخر زمان بھی انجرڈ ہیں، تحقیقات کرائیں گے کہ کیسے دو پلیئرز ورلڈکپ کے فوری بعد انجرڈ ہو گئے، یہ جاننا ہے کہ کیا وہ ایونٹ کے دوران ہی انجری کا شکار ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ بابر اعظم سمیت کسی کے ورلڈ کپ کے جانے نہ جانے کے حوالے سے مل کر فیصلہ ہوا جبکہ بنگلادیش میں ہم نے پہلے ہی سوچا ہوا تھا کہ نئے کھلاڑیوں کو موقع دینا ہے۔ بابر اعظم، فخر زمان اور سلمان مرزا فی الحال کھیلنے کے لیے فٹ نہیں ہیں اور کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اگر فائنل میں پہنچ جاتے تو یہ کیا کھیلنے کے لیے فٹ ہوتے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں امید تھی کہ سیمی فائنل میں پہنچیں گے لیکن ایسا نہیں ہو سکا، یہ طے ہے پلیئنگ الیون کوچ اور کپتان کی ذمہ داری ہے، ہمیں کوئی شوق نہیں کہ ہم یہاں بیٹھ کر 11 پلیئرز کا فیصلہ کریں، پلیئنگ الیون کی تشکیل میں میرا کوئی حصہ نہیں ہے۔اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے عاقب جاوید نے کہا کہ یہ آزادی کوچ اور کپتان کو ہونی چاہیے کیونکہ انہوں نے ہی گراؤنڈ میں کھلاڑیوں کو لڑانا ہوتا ہے، ورلڈکپ کی پلیئنگ الیون کا حق کپتان اور کوچ کو ہونا چاہیے تھا اور یہ وہی بتا سکتے ہیں کہ کون کیوں نہیں کھیلا۔
عاقب جاوید نے اپنی بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہر سٹیک ہولڈر کی جو ذمہ داری بنتی ہے وہ لینی چاہیے، ہم ہر ایونٹ کے بعد کہتے ہیں، سکروٹنی ہونی چاہیے سب بدل دو، چیئرمین بدل دو، سلیکٹرز بدل دو ،کپتان بدل دو، یہ سب ہم ہر ہار کے بعد کہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے سب سے زیادہ تبدیلیاں کی ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ ڈویلپمنٹ نہیں ہو رہی اور 2009 کے بعد ہماری ڈیولپمنٹ اس طرح نہیں ہوئی جیسے ہونی چاہیے، ہمارا بس یہی ہوتا ہے کہ اب ہار ہوئی ہے اب سب کو نکال کر چھوڑنا ہے۔

رکن سلیکشن کمیٹی عاقب جاوید نے بتایا کہ جیسن گلیسپی نے کہا تھا کہ 15 رکنی ٹیم میں تبدیلی نہیں ہوگی لہٰذا تب فیصلہ ہوا تھا کہ سلیکشن کمیٹی ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہیں بیٹھ سکتی تھی۔ سابق فاسٹ بولر عاقب جاوید نے کہا کہ ہماری انڈر سٹینڈنگ یہی تھی کہ کوچ کوفری ہینڈ بھی ملنا چاہیے، ہم نے اس مرتبہ بھی 20 پلیئرز دیے اور اس میں سے وہ دیکھے کہ کمبی نیشن کے لیے کیا مناسب ہیں، انٹرنیشنل ایونٹس کی مناسبت سے ڈومیسٹک ٹورنامنٹس نہیں ہوتے مگر ایسا نہیں ہو سکتا کہ ایک ایونٹ کی بنیاد پر انٹرنیشنل ایونٹ کے لیے منتخب کرلیں۔
سرفراز احمد نے کہا کہ 3، 4 وکٹ کیپرز پائپ لائن میں ہیں جن میں حسیب اللہ اور روحیل نذیر بھی شامل ہیں جبکہ غازی غوری کی حالیہ فارم اچھی رہی ہے، ڈویلپمنٹ کے طور پر غازی غوری اچھا آپشن تھے، شامل حسین کی ڈومیسٹک پرفارمنس شاندار رہی ہیں۔ ادھر قومی سلیکشن کمیٹی کے رکن مصباح الحق نے کہا کہ یہ دیکھنا ہے کہ پاکستان کو کہاں کس پلیئر کی ضرورت ہے، میرے پاس اس وقت جو ذمہ داری ہے اسی پر فوکس ہے،جب بھی موقع ملتا ہے تو کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچاؤں، کپتانی میں غلطیاں ہوئی ہیں لیکن غلطیاں کھیل کا حصہ ہیں۔

