لاہور (نمائندہ خصوصی) قومی سائبر کرائم تحقیقاتی ایجنسی (NCCIA) نے معروف پوڈکاسٹر اور اینکر پرسن ریحان طارق کو لندن سے وطن واپسی پر علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ لاہور سے گرفتار کر لیا، جہاں سے انہیں عدالت میں پیش کرنے کے بعد 6 روزہ جسمانی ریمانڈ پر این سی سی آئی اے کے حوالے کر دیا گیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ریحان طارق برطانیہ سے رات گئے لاہور پہنچے تو امیگریشن کلیئرنس کے دوران ان کا نام پروویژنل نیشنل آئیڈنٹی فکیشن لسٹ (PNIL) میں موجود ہونے کی نشاندہی ہوئی، جس کے بعد ایف آئی اے امیگریشن نے انہیں روک لیا۔ بعد ازاں این سی سی آئی اے کی ٹیم ایئرپورٹ پہنچی اور انہیں اپنی تحویل میں لے لیا۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق این سی سی آئی اے نے ریحان طارق کے خلاف 25 جون کو مقدمہ درج کیا تھا۔ ایف آئی آر میں الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے قانون (PECA) کی متعلقہ دفعات کے علاوہ تعزیراتِ پاکستان کی بعض دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔ تحقیقاتی ادارے کا مؤقف ہے کہ ایک پوڈکاسٹ میں ایسا مواد نشر کیا گیا جس سے مذہبی جذبات مجروح ہونے اور فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا ہونے کا خدشہ تھا۔
تحقیقاتی افسر نے عدالت کو بتایا کہ مزید تفتیش اور ڈیجیٹل شواہد اکٹھے کرنے کیلئے ملزم کا جسمانی ریمانڈ درکار ہے، جس پر جوڈیشل مجسٹریٹ نے انہیں 6 روز کیلئےاین سی سی آئی اے کے حوالے کرنے کی اجازت دے دی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ریحان طارق نے گرفتاری کے وقت کہا کہ انہیں اپنے خلاف درج مقدمے یا نوٹس کا پہلے سے علم نہیں تھا، تاہم وہ قانون کا احترام کرتے ہیں اور تحقیقات میں مکمل تعاون کریں گے۔
بعض میڈیا رپورٹس اور صحافیوں کے مطابق مقدمہ ریحان طارق کے اس پوڈکاسٹ کے بعد سامنے آیا جس میں مذہبی اسکالر علامہ جواد نقوی بطور مہمان شریک تھے تاہم این سی سی آئی اے نے باضابطہ طور پر اس پوڈ کاسٹ کو گرفتاری کی وجہ قرار نہیں دیا۔قانون کے مطابق مقدمہ تاحال زیرِ تفتیش ہے اور ریحان طارق کیخلاف عائد الزامات پر فیصلہ عدالت میں شواہد کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

